واشنگٹن: امریکہ کے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپ اسٹائن سے متعلق فائلوں کے نئے بیچ میں مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کے بارے میں سنگین اور سنسنی خیز دعوے سامنے آئے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کی طرف سے جاری تقریباً 35 لاکھ صفحات پر مشتمل فائلوں میں ایپ اسٹائن نے 2013 میں مبینہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ بل گیٹس نے اپنے ایک قریبی مشیر سے جنسی منتقل ہونے والی بیماریوں (STD) کے علاج کے لیے ادویات فراہم کرانے کو کہا تھا۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، ایپ اسٹائن نے یہ الزام گیٹس کے طویل عرصے تک سائنسی مشیر رہنے والے بوریس نکولک کی جانب سے لکھے گئے ایک مسودہ بیان میں لگایا تھا۔
اس مسودے میں ایپ اسٹائن نے دعویٰ کیا کہ گیٹس کوروسی خواتین کے ساتھ تعلقات کے بعد علاج کی ضرورت پڑی تھی اور مبینہ طور پر ان کی اس وقت کی بیوی میلِنڈا گیٹس کو چپکے سے اینٹی بایوٹکس دینے کی بات بھی کہی گئی تھی۔ ان دستاویزات میں ایپ اسٹائن نے یہ بھی لکھا کہ انہوں نے گیٹس کے لیے ادویات جمع کرنے، مبینہ غیر قانونی تعلقات کو چھپانے اور دیگر اخلاقی طور پر غلط کاموں میں کردار ادا کیا۔ تاہم، یہ مسودہ کبھی عوامی بیان کے طور پر جاری نہیں ہوا تھا۔ بل گیٹس کے ترجمان نے ان تمام الزامات کو پہلے ہی بالکل بے بنیاد اور جھوٹاقرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایپ اسٹائن کے دعوے بغیر کسی بنیاد کے ہیں اور ان کا کوئی حقیقی ثبوت موجود نہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جیفری ایپ اسٹائن امریکہ کا ایک مالدار فنانسر تھا، جو بعد میں جنسی استحصال اور اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم کے باعث دنیا بھر میں بدنام ہوا۔ اس سے پہلے بھی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپ اسٹائن نے 2017 میں گیٹس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ ایک مبینہ خیراتی فنڈ میں شامل ہوں۔ ایپ اسٹائن کی 2019 میں جیل میں موت ہو چکی ہے، لیکن اس سے متعلق دستاویزات مسلسل امریکہ اور دنیا بھر میں نئی بحث اور تنازعہ کو جنم دے رہی ہیں۔