انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان -روس تیل کے کاروبار کے بارے میں کیے گئے دعوؤں پر روس نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ کریملن نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے تیل کے سپلائرز کا انتخاب کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے۔ روس کا سرکاری موقف روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخاروا اور کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا۔ روس کو ہندوستان کی طرف سے تیل کی خرید کم کرنے یا بند کرنے کی کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی ہے۔
روس نے کہا کہ وہ کبھی بھی ہندوستان کا واحد سپلائر نہیں رہا ہے۔ ہندوستان ہمیشہ سے مختلف ممالک سے تیل خریدتا رہا ہے، جو ایک عام تجارتی عمل ہے۔ روس کا ماننا ہے کہ ہندوستان -روس توانائی کی شراکت داری بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ حال ہی میں ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعوی کیا تھا کہ ہندوستان اب روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا اور وینزویلا یا امریکہ جیسے متبادل پر غور کرے گا۔
تاہم، حکومت ہند نے ابھی تک اس پر کوئی سرکاری مہر نہیں لگائی ہے۔ وزیر تجارت پیوش گوئل اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے بیانات سے واضح ہے کہ 1.4 ارب ہندوستانی عوام کے مفاد کے لیے ہندوستان کے لیے توانائی کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ ہندوستان کسی بھی دبا ؤمیں آئے بغیر وہاں سے تیل خریدے گا جہاں اسے مناسب قیمت اور شرائط ملیں گی۔ وزیر خارجہ جے شنکر اس وقت امریکہ میں ہیں اور مارکو روبیو کے ساتھ عالمی مسائل پر بات چیت کر رہے ہیں، لیکن تیل کی خریداری کے حوالے سے ہندوستان اپنی پرانی پالیسی برقرار رکھے گا۔