انٹرنیشنل ڈیسک: نیپال میں سابق توانائی وزیر دیپک کھڑکا کو منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے انہیں کٹھمنڈو کے مہاراج گنج علاقے سے حراست میں لیا۔ نیپال پولیس کے مرکزی تحقیقاتی بیورو کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والی جنریشن زیڈ تحریک کے دوران سامنے آنے والے ایک بڑے نقدی معاملے سے جڑی ہے۔ اس وقت کھڑکا کے گھر میں آگ لگنے کے بعد بڑی مقدار میں نقد رقم ملنے کی بات سامنے آئی تھی۔
اس سے پہلے کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو بھی تحریک کو دبانے سے متعلق معاملات میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کھڑکا اس معاملے میں گرفتار ہونے والے تیسرے بڑے رہنما ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق تحریک کے دوران 77 افراد کی موت ہوئی تھی اور بھاری املاک کا نقصان ہوا تھا۔ تحقیقاتی کمیشن نے کئی رہنماوں کے خلاف مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی ہے۔
کھڑکا پر اپنے دور میں آبی بجلی منصوبوں میں لائسنس اور ٹھیکے دینے میں بدعنوانی کے بھی الزامات لگے ہیں۔ ان پر پیسے لے کر فیصلے کرنے اور زمین گھوٹالے میں شامل ہونے کے الزامات بھی ہیں۔ فی الحال پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور دیگر رہنماو¿ں کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔