انٹرنیشنل ڈیسک: عام طور پر لوگ ایک یا دو ڈگریاں حاصل کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں لیکن اگر کسی شخص کے اندر پڑھائی کا ایسا جنون ہو کہ اس کے پاس 138 ڈگریاں، ڈپلومے اور سرٹیفکیٹس ہوں تو ایسے شخص کو آپ کیا کہنا پسند کریں گے۔ یہ کارنامہ راجستھان میں جھنجھونو ضلع کے ڈاکٹر دشرتھ سنگھ نے انجام دیا ہے۔ حال ہی میں اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU) کے 39ویں کانووکیشن میں ڈاکٹر دشرتھ سنگھ کو 138ویں ڈگری دی گئی۔ انہوں نے “ویدک اسٹڈیز میں پوسٹ گریجویشن” کی ڈگری “خصوصی امتیاز” کے ساتھ حاصل کی۔ وہ تعلیم کے میدان میں 11 عالمی ریکارڈ بنا چکے ہیں۔ دشرتھ اس وقت بھارتی فوج اور دفاعی وزارت میں سینئر ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ فوج کی نو راجپوتانہ رجمنٹ میں سپاہی رہتے ہوئے دشرتھ سنگھ کا نام “انٹرنیشنل بک آف ریکارڈز” میں “دنیا کے سب سے زیادہ تعلیمی قابلیت رکھنے والے شخص” کے طور پر درج ہے۔
ڈاکٹر دشرتھ سنگھ اب تک تین مضامین میں پی ایچ ڈی، سات میں گریجویشن، 46 میں پوسٹ گریجویشن، 23 میں ڈپلومے، فوج سے متعلق سات مضامین میں ڈگریاں اور 52 مضامین میں سرٹیفکیٹس حاصل کر چکے ہیں۔ راجستھان سے سب سے زیادہ فوجی دینے والے جھنجھونو ضلع کی نوال گڑھ تحصیل کے کھیروڑ گاوں میں ایک عام سے کسان اور فوجی خاندان میں پیدا ہونے والے دشرتھ اپنے خاندان کی تیسری نسل کے فوجی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بچپن انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں گزرا۔ دشرتھ نے کہا کہ میرے خاندان میں کوئی زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا اور نہ ہی تعلیم کا کوئی ماحول تھا، پھر بھی میں نے گاوں کے ایک چھوٹے سے سکول سے اپنی ابتدائی تعلیم کا سفر شروع کیا۔ میں نے دسویں جماعت تک کی تعلیم اپنے گاوں کے سرکاری سکول سے مکمل کی۔ گھر کی کمزور مالی حالت کی وجہ سے کالج کی تعلیم حاصل کرنا ایک خواب جیسا تھا۔ پھر ایک دن کچھ دوستوں کے ساتھ میں نے گھر سے 13 کلومیٹر دور واقع سیٹھ جی بی پوڈار کالج نوال گڑھ میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ فیس اور کتابوں کی کمی کی وجہ سے کالج سے میرا نام کاٹ دیا گیا تھا لیکن میں نے کالج کے پرنسپل سے درخواست کی تو مجھے 10 دن کا وقت دیا گیا۔
اس وقت میں اپنے کھیت میں اگائی گئی سبزیاں شہر کی منڈی میں بیچنے 13 کلومیٹر پیدل گیا اور اس سے ملے پیسوں سے فیس جمع کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دادا باغ سنگھ اور والد رگھویر سنگھ شیخاوت بھی فوج میں تھے۔ کالج کے پہلے سال کے بعد ہی 4 اکتوبر 1988 کو وہ بھارتی فوج کی 9ویں راجپوت انفنٹری بٹالین میں ایک عام سپاہی کے طور پر بھرتی ہو گئے۔ دشرتھ سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہیں پہلی تعیناتی 1989 میں پنجاب میں ملی تھی۔ اس کے بعد وہ 1991 میں آسام میں الفا تحریک کے دوران رہے۔ پھر انہیں نیشنل رائفلز کے پہلے دستے میں شامل کر کے 1994 میں جموں و کشمیر بھیجا گیا جہاں وہ ساڑھے تین سال رہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلسل فیلڈ ڈیوٹی کے بعد انہیں کچھ وقت کے لیے لکھنو بھیجا گیا، لیکن اسی دوران پارلیمنٹ پر حملہ ہو گیا تو انہیں واپس جموں و کشمیر بھیج دیا گیا۔ سنگھ نے بتایا کہ بعد میں وہ کارگل جنگ میں بھی شامل رہے۔
سنگھ 3 جولائی 2004 کو ریٹائر ہو گئے، اور اس وقت وہ فوج میں بطور قانونی مشیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوج میں رہتے ہوئے بھی انہیں یہ احساس رہا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکے، اس لیے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پڑھائی شروع کی۔ دشرتھ نے بتایا کہ انہوں نے پہلی ڈگری بیچلر آف کامرس کی لی، پھر ایل ایل بی، ایل ایل ایم، بی جے ایم سی اور بی ایڈ کی ڈگریاں باقاعدہ طالب علم کے طور پر حاصل کیں۔ انہوں نے باقی ڈگریاں اور ڈپلومے IGNOU، جین وشو بھارتی لڈنوں اور کچھ نجی یونیورسٹیوں سے حاصل کیے ہیں۔ دشرتھ کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک ہزاروں امتحانات دے چکے ہیں۔ دشرتھ نے کہا کہ فوج میں ہر سال دو ماہ کی چھٹی ملتی ہے۔ میں یہ چھٹی مئی جون میں ہی لیتا تھا۔ نوکری کے دوران کبھی ہولی دیوالی یا دوسرے تہواروں کے لیے چھٹی نہیں لی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پھر سرکاری نوکری ملی، لیکن مجھے لگا کہ فوجیوں کے لیے کچھ کرنا چاہیے اس لیے میں نے قانون کی ڈگری حاصل کر کے وکالت شروع کر دی۔
اب جے پور میں آرمی کی سپت شکتِی کمانڈ میں قانونی مشیر کے طور پر فوج، فوجیوں اور سابق فوجیوں سے متعلق معاملات دیکھتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب تک فوجیوں کے 2500 کیسز لڑ چکے ہیں اور زیادہ تر میں کامیابی حاصل کی ہے۔ دشرتھ کے نام تعلیم کے میدان میں 11 ریکارڈ ہیں جن میں انڈیا بک آف ورلڈ ریکارڈ، گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ، دو ہارورڈ بک آف ورلڈ ریکارڈ، ایشیا بک آف ورلڈ ریکارڈ، انٹرنیشنل بک آف ریکارڈ، یو ایس اے بک آف ورلڈ ریکارڈ، لندن بک آف ورلڈ ریکارڈ، یو این بک آف ورلڈ ریکارڈ، گلوبل بک آف ورلڈ ریکارڈ اور نیشنل بک آف ورلڈ ریکارڈ شامل ہیں۔