National News

تبت میں چین کے مظالم میں اضافہ مٹھوں پر چھاپے، بدھ بھکشوں کی پراسرار موت

تبت میں چین کے مظالم میں اضافہ مٹھوں پر چھاپے، بدھ بھکشوں کی پراسرار موت

انٹرنیشنل ڈیسک: تبت میں ایک نوجوان بدھ بھکشو کی موت نے چین پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھکشو کو پولیس حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں اس کی لاش (مٹھ )خانقاہ کے حوالے کر دی گئی۔ پاکستان کے آن لائن جریدے بٹر ونٹر کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ تبت میں بڑھتے ہوئے جبر کا حصہ ہے جہاں عام سرگرمیوں کو بھی سکیورٹی خطرہ سمجھ کر کارروائی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھکشو سیمٹن کو حراست میں لینے کے بعد ان کی موت ہو گئی۔ حکام نے اسے اچانک بیماری قرار دیا لیکن بیماری ہسپتال یا حراست کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں۔ بتایا گیا کہ بھکشوں کو اس معاملے پر خاموش رہنے کی تنبیہ کی گئی۔ تبت میں اس طرح کے واقعات پر سوال اٹھانا بھی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ یہ (مٹھ) خانقاہ جہاں سیمٹن رہتے تھے تبتی زبان اور ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے جانی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی نظر میں یہی سرگرمیاں سیاسی طور پر مشکوک سمجھی جاتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ دلائی لامہ کی90 ویں سالگرہ سے پہلے تبت میں سختی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ (مٹھوں)خانقاہوں پر چھاپے دلائی لامہ کی تصویریں ہٹانا اور سینئر بھکشوں کا غائب ہونا جیسے معاملات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تبت میں حراست میںموت اور خاموشی کا ایک سلسلہ بن چکا ہے جہاں لوگوں کو خوف کے ماحول میں جینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔



Comments


Scroll to Top