معاشی قوم پرستی کے دوبارہ ابھرنے سے دنیا کی سیاست میں پرانے طریقے ہل گئے ہیں اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام پر اعتماد کمزور پڑ گیا ہے۔ یہ سب سے واضح طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کے دوران نظر آیا، جس میں نہ صرف دشمنوں کو بلکہ اتحادیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ہندوستان ، جو کبھی امریکہ کی انڈو پیسیفک پالیسی میں ایک پسندیدہ شراکت دار تھا، اور کینیڈا، جو ایک اچھا پڑوسی اور وقت کی کسوٹی پر پورا اترنے والا دوست تھا، دونوں ٹیرف کا شکار ہوئے۔
پیغام صاف تھا کہ خود غرضی سے چلنے والی دنیا میں قابلِ اعتماد شراکت دار بھی اب استحکام کو معمولی نہیں سمجھ سکتے۔ اس نے درمیانی اور ابھرتے ہوئے ممالک کو عالمی نظام میں اپنی جگہ پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔یہیں پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور مارک کارنی کے پیش کیے گئے خیالات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ مل کر، اپنے کاموں اور اپنے نظریات کے ذریعے، وہ تعاون اور اصولوں کے احترام پر مبنی ایک متوازن عالمی نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
داووس میں کارنی نے سماج کے اس حصے کی آواز بن کر بات کی جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، یعنی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا کی ' مڈل پاور ' (درمیانی طاقتیں) ۔ ان کی تقریر نے بڑی طاقتوں کی کشمکش اور معاشی بحرانوں میں پھنسے ممالک کی ناراضگی کو واضح طور پر دکھایا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کو ایک نئی زبان دی، جس نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان بڑھتے فرق کو کم کرنے اور مشترکہ مستقبل کے تحفظ کی مشترکہ ذمہ داری پر زور دیا۔کارنی کا پیغام صاف تھا کہ اصولوں پر مبنی نظام دبا ؤمیں ہے لیکن یہ نہ تو پرانا ہو چکا ہے اور نہ ہی اس کی جگہ کوئی اور لے سکتا ہے۔اسے چھوڑنے کی نہیں بلکہ تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی عالمی عدم استحکام کے جواب میں وزیر اعظم مودی کا طریقہ کم شور والا رہا لیکن کم مؤثر نہیں۔بیانات کے بجائے، ہندوستان نے اسٹریٹجک معاشی سیاست پر توجہ دی۔تجارتی جنگوں کے ایک دور کے بعد، نئی دہلی نے نیوزی لینڈ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے شراکت داروں کے ساتھ اعلی معیار کے آزاد تجارتی معاہدوں کو تیزی سے آگے بڑھایا ہے۔ یہ معاہدے بین الاقوامی تجارت میں بہت ضروری استحکام فراہم کرتے ہیں، کھلے پن کے لیے ہندوستان کے عزم کو دکھاتے ہیں اور اسے عالمی سرمایہ کے لیے ایک پسندیدہ منڈی اور منزل بناتے ہیں۔ سپلائی چین میں رکاوٹوں اور غیر مستحکم سرمایہ کے بہاؤ کے دور میں، ہندوستان استحکام کے ایک مضبوط ستون کے طور پر ابھرا ہے۔
ان دونوں طریقوں کا امتزاج، کارنی کی نظریاتی سمت اور مودی کی عملی کارکردگی، ایک مضبوط برادری کے لیے اسٹیج تیار کرتا ہے۔ مارچ میں کارنی کا ہندوستان کا دورہ، جس کے دوران ایک بڑے توانائی معاہدے کا امکان ہے اور جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے پر بات چیت جاری ہے، اس امتزاج کو ظاہر کرتا ہے۔ایک منظم بھارت کینیڈا آزاد تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ توانائی میں تعاون مضبوط ہوگا، سپلائی چین میں تنوع آئے گا اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا۔
کل ملا کر ، ہندوستان اور کینیڈا دنیا میں استحکام کے مراکز بن سکتے ہیں۔دونوں کثرت پسند جمہوریتیں ہیں، عالمگیریت کے فائدہ اٹھانے والے ہیں لیکن اس کی عدم مساوات سے بھی بخوبی واقف ہیں۔معاشی، سفارتی اور اخلاقی طور پر ایک ساتھ آگے بڑھ کر، یہ دونوں ممالک اصولوں پر مبنی نظام میں اعتماد قائم رکھ سکتے ہیں۔ایسا نظام جو صرف طاقتوروں کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے کام کرے۔عالمی قیادت اب صرف دبا ؤسے طے نہیں ہوتی۔یہ پل بنانے، اعتماد دوبارہ قائم کرنے اور اس وقت استحکام دینے سے طے ہوتی ہے جب دوسرے ممالک صفر- جمع کھیل کی طرف مڑ جاتے ہیں۔مختلف طریقوں سے، مودی اور کارنی ایک ہی کام کر رہے ہیں۔خاموشی سے ایک نئے عالمی نظام کا خاکہ تیار کر رہے ہیں۔
لولین گِل