انٹرنیشنل ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ اس وقت جنگ کے دہانے پر کھڑا نظر آ رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناو اب کھلے فوجی تصادم کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام اور ملک کے اندر جاری احتجاجی مظاہروں کو لے کر دباو بڑھاتے ہوئے جنگی جہازوں کو ایران کے قریب بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایران کی جوہری خواہشات پر قابو پانے اور تہران پر اسٹریٹجک دباو بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ لیکن ایران نے اس تعیناتی کو براہِ راست جنگ کی دھمکی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ پوری طاقت سے جواب دے گا۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے سے صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ کی آگ میں جھلس سکتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں نہ صرف جوابی کارروائی کرے گا بلکہ علاقائی سطح پر بھی ردعمل ہوگا، جس سے ایک چین ری ایکشن شروع ہو سکتا ہے۔ اس بحران کے درمیان ترکیہ ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل اور سعودی عرب واشنگٹن پر دباو بنا رہے ہیں کہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ بتاتا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں ایک بھی غلط فیصلہ یا فوجی چوک پورے خطے کو مکمل پیمانے کی جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔ پہلے سے ہی غزہ جنگ، یمن بحران اور لبنان اسرائیل کشیدگی سے دوچار مشرقِ وسطیٰ اب ایک اور بڑے تصادم کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ امریکہ کی فوجی دھمکیوں کا مقصد صرف جوہری پروگرام نہیں بلکہ ایران کے اندر جاری حکومت مخالف تحریکوں کو کمزور کرنا بھی ہے۔ تاہم تہران کا دعویٰ ہے کہ وہ اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر دباو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔