Latest News

ایران میں جنگ کی آہٹ، تیز دھماکوں سے دہلا تہران، آسمان میں سیاہ دھواں، ویڈیو وائرل

ایران میں جنگ کی آہٹ، تیز دھماکوں سے دہلا تہران، آسمان میں سیاہ دھواں، ویڈیو وائرل

 انٹر نیشنل ڈیسک  :  مشرق وسطی میں کشیدگی اب اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایک طرف امریکہ نے ایران پر حملے کی اسٹریٹجک تیاری مکمل کر لی ہے، تو دوسری طرف تہران کے شہریار علاقے میں ہونے والے زوردار دھماکوں نے پوری دنیا کو چوکس کر دیا ہے۔ رمضان کے مقدس مہینے میں جنگ کی اس دستک نے مقامی لوگوں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے۔
دھماکوں سے کانپ اٹھا تہران: کیا آئی آر جی سی کے ٹھکانے نشانہ بنے؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں تہران کے آسمان میں کالے دھوئیں کے بادل صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ مقامی رپورٹس کے مطابق یہ دھماکے شہریار علاقے میں ہوئے ہیں، جہاں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے گولہ - بارود اور ایندھن کے ڈپو موجود ہیں۔ تاہم ایران نے ابھی تک کسی بڑے نقصان کی سرکاری تصدیق نہیں کی ہے، لیکن شیراز صوبے میں بھی اسی طرح کی آوازیں سنائی دینے کی خبر ہے۔

🚨 #BREAKING 🇮🇷: A powerful explosion has been reported in Shahriar, #Tehran Province in #Iran, loud blasts heard and videos circulating online of the impact.

Reports suggest the blast occurred near military depot areas, though details are still emerging.

Situation… pic.twitter.com/ylnz3eM05t

— RX (@TheReal_RX) February 18, 2026


امریکہ کی کڑے بندوبست کی تیاری: سمندر میں موت کا سامان تیار
جوہری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایران کی گھیرابندی تیز کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بحیرہ عرب میں یو ایس ایس ابراہام لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جیسے دو بڑے طیارہ بردار جنگی جہاز پہلے سے موجود ہیں۔ ان کے ساتھ 50 سے زیادہ جدید لڑاکا طیارے ایف- 22، ایف- 35 اور ایف- 16 کسی بھی وقت پرواز کے لیے تیار ہیں۔سکیورٹی کے لیے تھاڈ ( THAAD )اور پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں بھی تعینات کی گئی ہیں۔

BREAKING 🔴

Iranians report an explosion in a mountainous area near the city of Shiraz in southern Iran, marking what local sources describe as the 13th unexplained blast recorded in the country since the start of the month. pic.twitter.com/oADQbG2Ep1

— faiyaz brohi (@FaiyazB) February 18, 2026


کشیدگی کی اصل وجہ: جوہری معاہدہ اور پرانا تنازع
دونوں ممالک کے درمیان اس ٹکرا ؤکی جڑیں سال 2015 کے جوہری معاہدے سے جڑی ہیں۔ 2018 میں جب اس وقت کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کو اس معاہدے سے نکالا، تب سے صورتحال بگڑتی گئی۔ اب ایران کی جانب سے جوہری پروگرام بند کرنے سے انکار کے بعد، امریکہ چھوٹے حملوں کے ذریعے بڑے فوجی آپریشن کی وارننگ دے رہا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top