کراچی: پاکستان کے شہر کراچی میں ایک پرانے شاپنگ پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے بھاری تباہی مچائی ہے۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے، جبکہ 80 دیگر لوگ اب بھی لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ملبے میں بچاوکا کام جاری ہے۔
یہ آگ ہفتے کی رات گل شاپنگ پلازہ کی بیسمنٹ میں ایک دکان سے شروع ہوئی تھی اور تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اس پر قابو پانے کے لیے تقریباً 34 گھنٹے لگے۔ پولیس افسر سمیعہ سعید نے بتایا کہ اب تک 28 لاشیں ہسپتالوں میں منتقل کی گئی ہیں، جن میں سے 18 کی شناخت ہو چکی ہے۔ باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 20 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ حکام کو 80 لاپتہ افراد کی فہرست دی گئی ہے، جن کے اہل خانہ اب بھی عمارت کے باہر بے صبری سے خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔
ریلیف کاموں میں مشکلات
بچاو¿ کاموں کے سربراہ عابد جلال کے مطابق، عمارت کی خراب حالت اور تمام منزلوں پر تقریباً 1200 دکانیں ہونے کی وجہ سے ریلیف کام بہت آہستہ چل رہے ہیں۔ سکیورٹی کے پیش نظر انتظامیہ نے ایم۔اے۔ جناح روڈ کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا ہے۔ گل پلازہ شاپ اونرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار تنویر پاشا نے بتایا کہ اس آگ کی وجہ سے کم از کم 3 ارب پاکستانی روپے (PKR) کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ تاجروں اور کاروباریوں نے ہلاک شدگان کی یاد میں پیر کو ایک دن کا سوگ منایا۔ بچاو¿ کام مکمل ہونے کے بعد ہی نقصان کے اصل اعداد و شمار سامنے آئیں گے۔