انٹرنیشنل ڈیسک: دنیا کے سب سے بدنام امیروں میں شمار جیفری ایپسٹین کی زندگی کے سیاہ صفحات جیسے جیسے کھل رہے ہیں، ایک خاتون کا نام بار بار سرخیوں میں آ رہا ہے۔ یہ وہ خاتون ہے جسے ایپسٹین نے سال 2019 میں جیل کے اندر خودکشی کرنے سے چند گھنٹے پہلے فون کیا تھا۔ جب پوری دنیا ایپسٹین کی درندگی کے خلاف کھڑی تھی اور اس کے قریبی لوگ ساتھ چھوڑ رہے تھے، تب بھی کیرینا شولیئک نام کی یہ خاتون اس کے سب سے قریب تھی۔

بیلاروس کی ڈینٹسٹ پر دل ہار بیٹھا تھا ارب پتی، کیرینا اور ایپسٹین کی ملاقات سال 2010 میں بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہوئی تھی۔ اس وقت کیرینا کی عمر محض 20 سال تھی۔ جیفری ایپسٹین اس نوجوان خاتون سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے کیرینا کو امریکہ لانے اور وہاں بسانے میں پوری کوشش لگا دی۔ رپورٹس کے مطابق کیرینا امریکہ میں ڈینٹسٹ بننا چاہتی تھیں، لیکن کولمبیا یونیورسٹی کے ڈینٹل کالج میں انہیں داخلہ نہیں مل پا رہا تھا۔

ڈونیشن کا کھیل اور رسوخ سے دلایا داخلہ، اپنی محبوبہ کو ڈاکٹر بنانے کے لیے ایپسٹین نے اپنے پیسے اور اثر و رسوخ کا بھرپور استعمال کیا۔ اس نے یونیورسٹی کو 50 لاکھ سے لے کر 1 کروڑ ڈالر تک کا عطیہ دینے کا لالچ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کالج کے ڈین سے لے کر بڑے افسران نے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کر دیا۔ کیرینا کے لیے الگ سے تعلیمی منصوبہ بنایا گیا اور انہیں وہ تمام سہولتیں دی گئیں جو ایک عام طالب علم کے لیے ممکن نہیں تھیں۔ دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے کیرینا کی تعلیم کی فیس کے طور پر ہی تقریباً 5 کروڑ روپے یعنی 6 لاکھ 31 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔

وصیت میں ہیرے کی انگوٹھی اور اربوں کی دولت، ایپسٹین نے اپنی موت سے صرف دو دن پہلے اپنی آخری وصیت پر دستخط کیے تھے۔ اس وصیت میں کیرینا شولیئک کا نام سب سے اوپر تھا۔ اس نے کیرینا کے لیے 100 ملین ڈالر یعنی تقریباً 850 کروڑ روپے کی بھاری رقم اور اپنی 33 قیراط کی قیمتی ہیرے کی انگوٹھی چھوڑی تھی۔
آخری گفتگو کا راز، جیل کی سلاخوں کے پیچھے جب ایپسٹین اپنی آخری گھڑیاں گن رہا تھا، تب اس نے کیرینا کو ہی فون کیا۔ تاہم اس گفتگو میں کیا ہوا، یہ آج بھی ایک معمہ ہے، لیکن یہ صاف ہے کہ کیرینا ایپسٹین کی سلطنت کی سب سے بڑی وارث اور اس کے رازوں کی امین تھی۔ آج 36 سال کی ہو چکی کیرینا نیویارک میں گمنام زندگی گزار رہی ہیں، لیکن ایپسٹین کی فائلوں نے ایک بار پھر انہیں دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔