Latest News

سرجری کے دوران پیٹ سے نکلی خطرناک چیز، خالی کروانا پڑا پورا ہسپتال، ڈاکٹر بھی رہ گئے حیران

سرجری کے دوران پیٹ سے نکلی خطرناک چیز، خالی کروانا پڑا پورا ہسپتال، ڈاکٹر بھی رہ گئے حیران

نیشنل ڈیسک: فرانس کے شہر ٹولوز میں ایک ہسپتال اس وقت ہائی الرٹ پر چلا گیا، جب پیٹ میں تیز درد کی شکایت لے کر آئے ایک نوجوان کی جانچ کے دوران ڈاکٹروں کے سامنے چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی۔ ابتدائی طبی ٹیسٹ میں نوجوان کے جسم کے اندر ایک مشتبہ دھات جیسی چیز دکھائی دی، جس نے پورے میڈیکل اسٹاف کو حیران کر دیا۔
جیسے جیسے جانچ آگے بڑھی، واضح ہوا کہ نوجوان کے نچلے جسم کے اندر تقریباً آٹھ انچ لمبا ایک توپ کا گولہ پھنسا ہوا ہے۔ یہ کوئی عام چیز نہیں، بلکہ پہلی عالمی جنگ کے دور کا زندہ گولہ بارود تھا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ نے فوراً سکیورٹی ایجنسیوں کو اطلاع دی اور احتیاطا پورا ہسپتال خالی کرا لیا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق، 24 سالہ نوجوان کو ہفتے کی دیر رات ٹولوز کے رنگوئیل حادثہ اور ایمرجنسی شعبے میں داخل کیا گیا تھا۔ وہ ناقابل برداشت درد سے کراہ رہا تھا۔ سرجنوں نے فوراً ہنگامی سرجری (آپریشن ) کا  فیصلہ لیا، جس کے دوران اس خطرناک چیز کی تصدیق ہوئی۔ گولے پر سن 1918 درج تھا، جو اسے پہلی عالمی جنگ سے جوڑتا ہے۔
سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ، بم ناکارہ بنانے والا دستہ تعینات
ممکنہ دھماکے کے خطرے کو دیکھتے ہوئے ہسپتال کے احاطے کے چاروں طرف سکیورٹی گھیرا ؤکیا گیا۔ بم ناکارہ بنانے والے دستے اور فائر بریگیڈ کو موقع پر بلایا گیا۔ ماہرین کی جانچ کے بعد واضح کیا گیا کہ گولہ نوکیلا ضرور تھا، لیکن فوری دھماکے کا خطرہ نہیں تھا۔ اس کے بعد بم ناکارہ بنانے والے ماہرین اسے محفوظ طریقے سے اپنے ساتھ لے گئے۔ ادھر مریض کی سرجری کامیاب رہی اور وہ فی الحال ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہسپتال میں ہی داخل ہے۔ نوجوان کو فرانس کا ہی شہری بتایا گیا ہے۔
گولہ جسم کے اندر کیسے پہنچا
اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ اتنا خطرناک گولہ نوجوان کے جسم کے اندر کیسے پہنچا۔ حکام کو شبہ ہے کہ یہ کسی پارٹی یا اسٹنٹ کے دوران ہونے والی لاپروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ایک افسر کے مطابق، اس معاملے میں نوجوان سے آنے والے دنوں میں پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔ قانونی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔ استغاثہ نوجوان پر زمرہ اے گولہ بارود رکھنے کے الزام میں کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔
آئرن ہارویسٹ سے جڑی تاریخ
ماہرین کے مطابق، برآمد کیا گیا یہ گولہ پہلی عالمی جنگ کے دوران امپیریل جرمن فوج کے استعمال میں آتا تھا۔ ایسے دھماکہ خیز مواد آج بھی فرانس اور آس پاس کے علاقوں میں کھیتی، تعمیراتی کام یا کھدائی کے دوران مل جاتے ہیں۔ انہیں آئرن ہارویسٹ کہا جاتا ہے، جس میں ہر سال ہزاروں بغیر پھٹے گولہ بارود برآمد ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف طبی دنیا کے لئے حیران کن ہے، بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ سو سال پرانی جنگ آج بھی کس طرح غیر متوقع خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top