National News

اے آئی کا استعمال کب نہیں کرنا چاہیے؟ سنگین مسئلہ پیداہوسکتاہے

اے آئی کا استعمال کب نہیں کرنا چاہیے؟ سنگین مسئلہ پیداہوسکتاہے

ایڈنبرا: آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے دور میں اکثر اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ بہتر نتائج کیسے حاصل کیے جائیں اور کام کی رفتار کیسے بڑھائی جائے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سوچ ادھوری ہے۔ اصل چیلنج یہ نہیں کہ میں اس کا استعمال کیسے کروں؟، بلکہ یہ ہے کہ کیا مجھے اس کا استعمال کرنا چاہیے؟ اور اس عمل میں میں اپنا کیا گوا رہا ہوں؟۔
اے آئی میں چھپے تعصبات (امتیاز) ممکنہ خطرہ
ذرائع کے مطابق، اے آئی نظام ایسے تعصبات(متیاز) سے بھرے ہو سکتے ہیں جو عام صارف کو نظر نہیں آتے۔ ایک مطالعے میں دیکھا گیا کہ 'برٹش نیوز پیپر آرکائیو' میں دستیاب ڈیجیٹل مواد اصل شائع شدہ مواد کا 20 فیصد سے بھی کم نمائندگی کرتا ہے، جس میں آزاد آوازوں کی کمی ہے۔ اگر کوئی محقق صرف اسی ڈیٹا پر انحصار کرے تو وہ پرانی غلطیوں کو ہی دہرائے گا۔
اسی طرح، 2023 میں 'دی لانسٹ گلوبل ہیلتھ' میں شائع شدہ تحقیق بتاتی ہے کہ جب اے آئی سے ایسے تصاویر بنانے کے لیے کہا گیا جہاں افریقی ڈاکٹر گورے بچوں کا علاج کر رہے ہوں، تو AI 300 کوششوں کے باوجود ایسا نہیں کر سکا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی رائج روایتی تصورات میں اتنا ڈوبا ہوا ہے کہ وہ متبادل تخیل پیدا نہیں کر سکتا۔
کیا آئی آپ کا دوست ہو سکتا ہے؟
فلاسفرز کی دلیل ہے کہ آئی کبھی بھی انسان کا 'دوست' نہیں ہو سکتا، کیونکہ دوستی کے لیے دوسرے کے مفادات کی پرواہ ضروری ہے، جبکہ آئی کے پاس اپنا کوئی مفاد نہیں ہوتا۔ کمپنیوں کی طرف سے آئی کو ایک 'ساتھی' کے طور پر پیش کرنا صرف ایک تجارتی لین دین ہے، جو انسانی ہمدردی کا صرف بہانہ پیش کرتا ہے۔
سماجی اثرات کے بارے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت
آج بھرتی، صحت، تعلیم اور انصاف جیسے اہم شعبوں میں آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم ان نظاموں کا سنجیدہ جائزہ نہیں لیتے، تو فیصلہ کرنے کی ذمہ داری ایسے الگوردم کے ہاتھ چلی جائے گی جن کی حدود ادراک سے باہر ہیں۔
آخر میں، آئی خواندگی صرف بہتر 'پرومپٹ' لکھنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ فیصلہ کرنے کے بارے میں ہے کہ کب آئی کی مدد لینی ہے اور کب انسانی فہم کو ترجیح دینی ہے۔ آئی کا استعمال کب نہیں کرنا، یہ جاننا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔



Comments


Scroll to Top