انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعہ اب خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فوجی ٹکراو¿ تیز ہو گیا ہے جس میں فضائی حملے میزائل حملے اور جوابی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ حالات علاقائی جنگ کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں وسیع پیمانے پر فضائی حملہ کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے کئی اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فضائیہ نے بتایا کہ حملے میں کمانڈ سینٹر بیلسٹک میزائل ٹھکانے سکیورٹی اور لاجسٹک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں اسلامی انقلابی گارڈ کور سے جڑے ٹھکانوں کو بھی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ اس نے ایران کے فضائی دفاعی نظام پر بھی حملہ کیا تاکہ ایرانی فضائ میں اپنی برتری مضبوط کی جا سکے۔
اس کے جواب میں اسلامی انقلابی گارڈ کور نے آپریشن ٹرو پرومس فور کے تحت اسرائیل پر بڑا حملہ کیا۔ ایرانی فورس نے اسرائیل کے تل ابیب میں ایک سو سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں متعدد وارہیڈ میزائلوں کا استعمال اور کئی فوجی اور سکیورٹی ٹھکانوں پر حملے شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے خورمشہر فور قدر میزائل عماد اور خیبر شکن جیسی جدید میزائلوں کا استعمال کیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق دو سو تیس سے زیادہ لوگ مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں۔ تل ابیب میں جزوی بلیک آو¿ٹ ہے جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلیں آ رہی ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ قطر بحرین متحدہ عرب امارات کویت اور سعودی عرب میں امریکی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے پورے خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔