انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان ملک کو دنیا سے جوڑنے والا ڈیجیٹل نظام تقریباً مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ایران کی اعلیٰ سائبر اتھارٹی نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک سکیورٹی مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی، تب تک عالمی انٹرنیٹ تک رسائی محدود رہے گی۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، نیشنل سینٹر فار سائبر اسپیس کے سربراہ محمد امین اقامیری نے بتایا کہ 9 جنوری کو لگایا گیا انٹرنیٹ بلیک آو¿ٹ فی الحال جاری رہے گا۔اسے ختم کرنے کے لیے کوئی طے شدہ وقت مقرر نہیں ہے اور فیصلہ سکیورٹی اداروں کے جائزے کے بعد ہی کیا جائے گا۔اقامیری نے انٹرنیٹ بندش کو مبینہ “کاگریٹو وارفیئر” سے جوڑتے ہوئے کہا کہ دشمن سائبر اسپیس کے ذریعے عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومت نے اس دوران نیشنل انفارمیشن نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے ذریعے محدود خدمات جیسے آن لائن بینکنگ، شاپنگ اور مقامی ایپس چلائی جا رہی ہیں۔اسی دوران، سوشل میڈیا پر ایک ایرانی مظاہرہ کرنے والی خاتون کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ویڈیو میں مظاہرہ کرنے والی دعویٰ کرتی ہے کہ جب انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے، تب یہ صاف نظر آتا ہے کہ کون ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔اس نے ایلون مسک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کی جگہ ایران کے “اصل پرچم” کی علامت دکھائی گئی، جسے وہ حمایت کی علامت سمجھتی ہے۔سب سے بڑا دعویٰ یہ کیا گیا کہ جہاں موبائل ڈیٹا، کالز اور وی پی این مکمل طور پر بند ہیں، وہاں صرف اسٹارلنک کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی ممکن ہے۔مظاہرہ کرنے والی کے الفاظ میں، ایران میں انٹرنیٹ نہیں ہے صرف اسٹارلنک۔

تاہم، ان دعووں کی کوئی آزاد یا سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔اس سے پہلے ایرانی انتظامیہ پر اسٹارلنک سگنل جام کرنے اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ پر سختی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔انٹرنیٹ نگرانی کے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق، ایران کو 108 گھنٹے سے زیادہ عرصے سے تقریباً مکمل طور پر عالمی انٹرنیٹ سے کاٹ دیا گیا ہے۔
ٹیلی کام وزیر ستار ہاشمی نے کہا ہے کہ تمام سرکاری محکمے اعلیٰ سکیورٹی حکام کے فیصلے پر عمل کریں گے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق، مظاہروں میں اب تک 646 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں 505 مظاہرین جن میں 9 بچے شامل ہیں، 133 سکیورٹی فورسز کے اہلکار، ایک پراسیکیوٹر اور سات دیگر شہری شامل ہیں۔یہ تحریک سولہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور 187 شہروں میں 606 مظاہرے درج کیے گئے ہیں۔