National News

ایرانی صدر پزشکیان کا اعلان: جنگ روکنے کو تیا رہیں، امریکہ - اسرائیل مان لیں صرف تین شرائط

ایرانی صدر پزشکیان کا اعلان: جنگ روکنے کو تیا رہیں، امریکہ - اسرائیل مان لیں صرف تین شرائط

انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے ایران نے پہلی بار واضح طور پر اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر تین بڑی شرائط پوری کر دی جائیں تو تہران جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ادھر ایران کی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہوں پر حملہ کیا گیا تو خلیج فارس کی کسی بھی بندرگاہ یا اقتصادی مرکز کو محفوظ نہیں سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو فوج پہلے کے مقابلے میں کہیں بڑے فوجی آپریشن شروع کرے گی۔
ایران کی تین اہم شرائط

  • ایران کے جائز حقوق کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے۔
  • جنگ میں ہونے والے نقصانات کے لیے ایران کو معاوضہ دیا جائے۔
  • مستقبل میں کسی بھی فوجی حملے کے خلاف مضبوط عالمی سکیورٹی کی گارنٹی دی جائے۔
  • پزشکیان نے یہ بیان سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔

روس اور پاکستان سے گفتگو
ایرانی صدر نے کہا کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماو¿ں سے گفتگو کے دوران خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کو دہرایا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ موجودہ جنگ کی شروعات اسرائیل اور امریکہ کی کارروائی سے ہوئی اور جب تک ان مسائل پر واضح معاہدہ نہیں ہوتا تب تک تنازع ختم نہیں ہوگا۔
جنگ جلد ختم ہونے کی امید نہیں اسرائیل
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف جاری حملوں سے اس کی مذہبی حکومت کے گرنے کے امکانات فی الحال واضح نہیں ہیں۔ اگرچہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے لیکن اسرائیل کے حکمت عملی کے حلقوں کا خیال ہے کہ واشنگٹن ابھی تنازع روکنے کے قریب نہیں ہے۔
جنگ کیسے شروع ہوئی
رپورٹس کے مطابق یہ تنازع اٹھائیس فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ احتیاطی حملہ کیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے کئی شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ اردن، عراق اور خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی۔
عالمی معیشت پر اثر

  • ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کا اثر صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں ہے۔
  • خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث
  • تیل اور گیس کے ٹینکروں کی آمد و رفت متاثر ہوئی
  • عالمی توانائی کی فراہمی پر دباو بڑھ گیا
  • بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کا خطرہ بڑھ گیا
  • کیونکہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل کی تجارت اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔

                
 



Comments


Scroll to Top