انٹر نیشنل ڈیسک: ایران کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے منگل کی شام کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی اسلامی حکومت کو منظم طریقے سے کچل رہی ہے اور یہودی ریاست کو درپیش وجودی خطرات کو ختم کر رہی ہے۔یہودی تہوار پیسح سے پہلے عبرانی زبان میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جلد یا بدیر ایرانی حکومت گر جائے گی اور اسرائیل تہران سے پیدا ہونے والے مشترکہ خطرے کے خلاف خطے کے اہم ممالک کے ساتھ نئے اتحاد بنا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن مختصر طور پر کہا کہ انہیں امید ہے کہ بہت جلد ہی میں ان اہم اتحادوں کے بارے میں مزید بتا سکوں گا۔نیتن یاہو نے کہا کہ آزادی کے تہوار کی شام پر اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ پوری دنیا ایران کی ظالم حکومت کے خلاف ہماری لڑائی میں ہماری گرج سن رہی ہے۔ یہ ایسی لڑائی ہے جس میں ہم نے بہت بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
یہ خطاب ایسے وقت میں آیا جب ملک لبنان میں زمینی کارروائی کے دوران 4 فوجیوں کی موت پر سوگ منا رہا ہے۔ انہوں نے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابیاں تکلیف دہ قیمت ادا کرکے حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہماری مشترکہ کارروائی کا ایک مہینہ مکمل ہونے پر ہم اس دہشت گرد حکومت کو منظم طریقے سے کچل رہے ہیں جس نے کئی دہائیوں تک امریکہ کی موت اور اسرائیل کی موت کے نعرے لگائے۔ آیت اللہ کی حکومت نے ہمیں تباہ کرنے پورے مغربی ایشیا پر قبضہ کرنے اور پوری دنیا کو خطرے میں ڈالنے کی بڑی کوشش کی۔
نیتن یاہونے کہا کہ اس نے ان مہلک عزائم کو جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ہمارے اردگرد دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد اور ہتھیار دیے گئے اور سخت پابندیوں کے باوجود یہ عمل جاری رکھا گیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اتنے برسوں میں اس سب پر ایران نے تقریباً ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کیے۔ اور اب کہا جا سکتا ہے کہ یہ پوری رقم ضائع چلی گئی۔ایران پر کیے گئے حملوں میں انہوں نے ان کے جوہری پروگرام ان کے میزائل حکومتی ڈھانچے اس کی جابرانہ قوتوں اور اعلیٰ قیادت پر حملوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل کے ہاتھوں مارے گئے ایران حزب اللہ اور حماس کے رہنماوں کے نام گنواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آمر خامنہ ای سے لے کر جوہری سائنس دانوں تک اور انقلابی محافظ دستے اور بسیج کے قاتل رہنماوں تک اس کے علاوہ نصر اللہ ہنیہ دیف سنوار اور دیگر کئی لوگ۔
نیتن ہاہونے دعویٰ کیا کہ ایران پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے اور اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے دنیا کو ایران سے پیدا ہونے والے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا ہے جہاں زیادہ تر رہنما اسے خاموشی سے تسلیم کر رہے ہیں اور کچھ اس کے خلاف قدم بھی اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے مغربی ایشیا کے رہنماو¿ں سے خفیہ اور اعلانیہ ملاقاتوں میں بات کی۔ میں نے یورپ کے رہنماوں سے بات کی۔ میں نے امریکہ کے رہنماوں اور صدر سے بھی بات کی۔ انہوں نے اس خطرے کو پوری طرح نہیں سمجھا تھا۔ آج ایسا کوئی نہیں جو اس خطرے کی سنگینی کو نہ سمجھتا ہو۔ کچھ لوگ نجی گفتگو میں مجھ سے کہتے ہیں وزیر اعظم ہم سمجھتے ہیں۔ ہم اسے کھل کر کہنے سے ڈرتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں۔ اور کچھ کہتے ہیں ہم سمجھتے ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ وہ کارروائی بھی کر رہے ہیں۔