نیویارک: امریکی سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے مرکز میں ایک بھارتی نڑاد وکیل ہیں، جنہوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے وسیع اثرات والے عالمی محصولات کو منسوخ کرنے کے حق میں دلیل دی۔ بھارتی مہاجر والدین کے بیٹے اور صدر باراک اوباما کے دور میں سابق امریکی سالیسٹر جنرل رہنے والے نیل کتیال نے چھوٹے کاروباروں کی طرف سے اس اہم محصول کے معاملے میں دلائل دیے اور کامیابی حاصل کی۔ فیصلہ آنے کے فوراً بعد کتیال نے 'ایکس' پر پوسٹ کیا، فتح۔
کتیال نے ایم ایس ناوکے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، آج جو کچھ ہوا وہ امریکی نظام میں بے حد خاص ہے۔ میں ہجرت کرنے والے والدین کا بیٹا ہوں، میں عدالت گیا اور امریکہ کے چھوٹے کاروباروں کی طرف سے یہ دلیل دی، 'دیکھیں، صدر غیر قانونی طریقے سے کام کر رہے ہیں۔' انہوں نے کہا، میں اپنا موقف پیش کرنے کے قابل تھا، انہوں نے مجھ سے بہت مشکل سوالات کیے۔ یہ بہت تیز اور گہری زبانی بحث تھی، اور آخر میں انہوں نے ووٹنگ کی اور ہم جیت گئے۔ انہوں نے آگے کہا،اس ملک کی یہی بات غیر معمولی ہے۔ ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے جو خود کو درست کرتا ہے، جو ہمیں یہ کہنے کی اجازت دیتا ہے 'آپ دنیا کے سب سے طاقتور شخص ہو سکتے ہیں، لیکن پھر بھی آپ آئین کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔
میرے لیے آج کا دن اسی بات کی علامت ہے۔ کٹیال کا جنم شکاگو میں طبی ماں اور انجینئر والد کے گھر 1970 میں ہوا تھا۔ ان کے والدین بھارت سے یہاں آئے تھے کتیال واشنگٹن ڈی سی میں موجود ملبینک ایل ایل پی کے دفتر میں شراکت دار ہیں اور کمپنی کے قانونی اور ثالثی گروپ کے رکن ہیں۔ فیصلے کے بعد جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ نے قانون کی حکمرانی اور پورے امریکہ کے شہریوں کے حق میں مضبوطی سے کھڑے ہو کر اپنا فرض ادا کیا۔