نئی دہلی :ہندوستان اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں ہونے والا دوطرفہ تجارتی معاہدہ ہندوستانی کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے امریکی بازار کے دروازے مکمل طور پر کھول دے گا۔ اس معاہدے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ امریکہ اب 1.36 بلین ڈالر مالیت کی ہندوستانی برآمدات پر کوئی اضافی محصول نہیں لگائے گا، جس میں خاص طور پر 1.035 بلین ڈالر کی زرعی مصنوعات کو 'زیرو ریسیپروکل ٹیرف' کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
یہ تاریخی فیصلہ ہندوستانی برآمد کنندگان کو ایک ایسا استحکام اور پیشگی اندازہ فراہم کرے گا، جس سے وہ بغیر کسی بازار کی غیر یقینی صورتحال کے اپنی مصنوعات بین الاقوامی سطح پر فروخت کر سکیں گے۔ اس وقت ہندوستان کا امریکہ کے ساتھ زرعی تجارت میں پہلے ہی 1.3 بلین ڈالر کا تجارتی سرپلس ہے، جسے یہ نیا معاہدہ مزید مضبوط کرنے والا ہے۔
امریکہ میں بغیر کسی ڈیوٹی کے فروخت ہوں گے ہندوستان کے مصالحہ جات، چائے، کافی
ہندوستانی زرعی شعبے کے لیے اس معاہدے کے دوررس نتائج ہوں گے کیونکہ اب ہندوستانی مصالحہ جات، چائے، کافی اور ان کے عرق براہِ راست امریکی باورچی خانے تک بغیر کسی محصول کی رکاوٹ کے پہنچیں گے۔ اتنا ہی نہیں، ہندوستان کے پھلوں کے پیدا کرنے والے کسانوں کے لیے بھی یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
اب آم، کیلا، ناریل، لیموں، امرود اور انناس کے ساتھ ساتھ ان کے پلپ اور جوس کے لیے امریکی بازار میں مقابلہ کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، کاجو، اخروٹ، پستہ اور پائن نٹس کے ساتھ ساتھ جو اور ناریل کے تیل جیسی مصنوعات کی برآمد میں بھی بڑی اضافہ کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ ہندوستانی کسانوں کو عالمی معیار کے بازار فراہم کر کے ان کی محنت کا صحیح معاوضہ دلانے کی طرف ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔
ہندوستان میں نہیں بیچے جائیں گے امریکہ کے جوار، باجرہ، راگی جیسے اناج
اس معاہدے کو صرف برآمد بڑھانے تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ ہندوستان کی حکومت نے 'کسانوں کے مفاد سب سے اوپر' کی پالیسی اپناتے ہوئے ایک مضبوط حفاظتی پردہ بھی تیار کیا ہے۔ ملک کے سب سے حساس زرعی علاقوں کو کسی بھی بیرونی خطرے سے بچانے کے لیے ایک خاص 'چھوٹ کی درجہ بندی' بنائی گئی ہے۔
اس درجہ بندی کے تحت گوشت، پولٹری، ڈیری مصنوعات، جی ایم فوڈ، سویا میل، مکئی اور جوار، باجرہ، راگی جیسے موٹے اناج کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ مونگ، کابُلی چنا اور ہری مٹر جیسی دالوں اور تیل اور شہد کو بھی اس حفاظتی دائرے میں رکھا گیا ہے تاکہ گھریلو بازار میں کسی بھی قسم کی مسابقت سے ہمارے مقامی کسانوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ یہ محتاط نقطہ نظر یقینی بناتا ہے کہ جہاں ایک طرف ہمیں نیا بازار مل رہا ہے، وہیں دوسری طرف ہماری روایتی زرعی بنیادوں پر کوئی اثر نہ پڑے۔
بادام، اخروٹ اور مسور پرلاگو ہوگا ٹیریف ریٹ کوٹہ
معاہدے کی باریکیوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے غذائی پروسیسنگ صنعت میں استعمال ہونے والی درمیانی مصنوعات، جیسے کچھ خاص تیل اور اسٹارچ کے لیے محصول ہٹانے کے عمل کو 10 سال کے طویل عرصے میں تقسیم کیا ہے، تاکہ گھریلو صنعت کو خود کو مضبوط کرنے کا پورا موقع ملے۔
بادام، اخروٹ اور مسور جیسی اشیا کے لیے 'ٹیریف ریٹ کوٹہ' لاگو کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک مقررہ حد تک ہی محصول میں چھوٹ دی جائے گی، جس سے بازار میں اچانک غیر ملکی مال کی بھرمار کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ یہ پوری حکمت عملی اس طرح بنائی گئی ہے کہ گھریلو رسد کو بدلنے کی بجائے صرف طلب اور رسد کے فرق کو پورا کیا جا سکے، جس سے بازار میں قیمتوں کا استحکام بنا رہے اور کسانوں کو کسی بھی قسم کا ذہنی یا مالی دبا ؤنہ سہنا پڑے۔
نتیجہ کے طور پر، یہ ہندوستان -امریکہ تجارتی معاہدہ زرعی شعبے کے لیے ایک متوازن اور فائدہ مند سودا ہے، جو ہندوستانی کسانوں کو بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت دلائے گا۔ یہ نہ صرف برآمدات کے ذریعے غیر ملکی زر مبادلہ ذخائر کو بڑھائے گا بلکہ ہندوستانی دیہی معیشت کو نیا سہارا بھی فراہم کرے گا۔ بازار کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے اور حساس مصنوعات کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے، حکومت نے یہ یقینی بنایا ہے کہ ہندوستانی کسان عالمی تجارت کے چیلنجز سے محفوظ رہ کر اس کے فوائد سے لطف اندوز ہو سکیں۔ یہ معاہدہ واقعی ہندوستانی زراعت کو عالمی پاور ہاؤس بنانے کی طرف اٹھایا گیا ایک فیصلہ کن اور جراتمندانہ قدم ہے۔