انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش اور امریکہ کے درمیان ہوئے باہمی تجارتی معاہدے کو لے کر ہندوستان میں کسی طرح کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کہنا ہے بنگلہ دیش میں ہندوستان کی سابق ہائی کمشنر وینا سکری کا۔ وینا سکری نے کہا کہ ہندوستان کو اس سمجھوتے سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور اس کے پیچھے دو اہم سبب ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جن شعبوں میں بنگلہ دیش کو امریکی بازار میں زیرو ٹیرف ملنے کا امکان ہے، وہ بنیادی طور پر مین- میڈ یارن، کاٹن یارن اور کپاس سے جڑے ہیں۔ ان تمام مصنوعات کی سپلائی ہندوستان پہلے سے ہی انتہائی مسابقتی قیمتوں پر اور بہت تیز ترسیل کے ساتھ کرتا رہا ہے۔ سکری نے کہا کہ بنگلہ دیشی برآمد کنندگان ہندوستان سے ایک ہفتے کے اندر یہ خام مال حاصل کر سکتے ہیں۔
بوئنگ جیٹ سودے پر سوال
وینا سکری نے بنگلہ دیش کی جانب سے بوئنگ طیاروں کی خرید پر بھی سوال اٹھایا۔ بنگلہ دیش بوئنگ کے اتنے بڑے جیٹ خریدنے کی بات کر رہا ہے، لیکن ادائیگی کون کرے گا۔ اس کے لیے انہیں آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑے گا۔ اس سے ان کی معیشت اور کمزور ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور بنگلہ دیش نے پیر کے روز یونائیٹڈ اسٹیٹس بنگلہ دیش ایگریمنٹ آن ریسپروکل ٹریڈ (United States-Bangladesh Agreement on Reciprocal)پر دستخط کیے۔ اس معاہدے پر امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، جوٹ اور شہری ہوا بازی شیخ بشیر الدین نے دستخط کیے۔
امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کے مطابق، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی شراکت کو مضبوط کرے گا۔ تاہم وینا سکری کا ماننا ہے کہ یہ ڈیل ہندوستان کے لیے کوئی بڑا تجارتی خطرہ پیدا نہیں کرتی، کیونکہ ہندوستان کی پیداواری صلاحیت، لاجسٹکس اور علاقائی قربت بنگلہ دیش پر اب بھی بھاری ہے۔