ماسکو/نئی دہلی: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ کی جانب سے بھارت پر عائد کیے گئے تیل اور دیگر درآمدی ٹیرف کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارت کے خودداری کی بھرپور تعریف کی۔ پوتن نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور چین ایسے ممالک ہیں جو کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکتے۔
ٹرمپ کا ٹیرف اور بھارت کا ردعمل
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت پر کل 50 فیصد امریکی ٹیرف لاگو ہو گیا۔ امریکہ کا الزام ہے کہ بھارت روس کو فنڈنگ کر رہا ہے اور یوکرین جنگ میں اس کا کردار ہے۔
حالانکہ بھارت نے واضح کیا ہے کہ ملک اپنے عوامی مفاد اور توانائی کی سلامتی کے لیے روسی تیل کی خرید جاری رکھے گا۔ پوتن نے کہا کہ بھارت اس معاملے میں اپنی خودداری اور قومی مفاد کو ترجیح دے گا۔
مغرب اور یورپ پر پوتن کا حملہ
والدائی کلب میں ایک پروگرام کے دوران پوتن نے یورپی ممالک اور نیٹو پر بھی سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا — یورپ جنگی جنون پھیلا رہا ہے اور روس پر جھوٹی افواہیں گھڑ رہا ہے۔ نیٹو پر حملہ کرنے کا روس کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن اگر کوئی اکساتا ہے تو جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ جرمنی میں اپنی فوج کو یورپ کی سب سے طاقتور بنانے کی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے پوتن نے کہا کہ روس یورپ کے بڑھتے عسکری اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پوتن نے یہ بھی کہا کہ روس اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ہمیں اکسانے کی کوشش کی تو ملے گا سخت جواب
روسی صدر نے خبردار کیا کہ روس نے تاریخ میں ہمیشہ اپنی سلامتی اور شہریوں کے سکون پر خطرہ آنے پر فوراً سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کبھی فوجی تصادم کی شروعات نہیں کرتا، لیکن کمزوری دکھانا دوسرے ممالک کو بہکانے اور دباو¿ ڈالنے کا موقع دیتا ہے۔
مغربی ممالک پر سخت الزام
پوتن نے کہا کہ مغرب بار بار روس کو خیالی خطرہ بتا کر یورپی عوام کو اپنی پالیسیوں کے خلاف مجبور کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی رہنما روس کے خلاف ہیجان پھیلا رہے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ ‘روس جنگ کرنے والا ہے’۔ پوتن نے واضح کیا کہ روس نیٹو پر حملہ کرنے والا نہیں ہے، یہ مکمل طور پر ناممکن ہے۔
برکس ممالک اور بھارت کی ستائش
پوتن نے برکس ممالک اور دیگر اتحادیوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے روس کی امن پہل کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی طاقت سب پر اپنی شرطیں مسلط نہیں کر سکتی۔ کریملن نے تصدیق کی کہ پوتن دسمبر میں بھارت کے دورے پر آئیں گے اور وزیر اعظم مودی کے ساتھ سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔