Latest News

عالمی کشیدگی کے درمیان ہندوستان پر بڑھا اعتماد، یورپ اور کینیڈا کے لئے بنا اہم معاشی اور اسٹریٹجک شراکت دار

عالمی کشیدگی کے درمیان ہندوستان پر بڑھا اعتماد، یورپ اور کینیڈا کے لئے بنا اہم معاشی اور اسٹریٹجک شراکت دار

انٹرنیشنل ڈیسک: تیزی سے بدلتے عالمی حالات میں ہندوستان  یورپ اور کینیڈا کے لیے ایک اہم معاشی اور اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ امریکہ، چین اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکراؤ پر مبنی سیاست نے برسلز اور اوٹاوا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی معیشتوں کو ڈی رسک کرنے کے لیے ہندوستان کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کریں۔ حال ہی میں ڈونالڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان ہونے والے طویل انتظار کے بعد طے پانے والے تجارتی معاہدے نے امریکہ- ہند  تعلقات میں آئی گراوٹ کو تھامنے کا کام کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے ہندوستانی  اشیا پر  'ریسیپروکل ٹیرف '25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ ہندوستان نے امریکی برآمدات پر ڈیوٹی اور غیر ڈیوٹی رکاوٹیں کم کرنے کا وعدہ کیا۔
تاہم ٹرمپ نے اس ڈیل کو جغرافیائی سیاسی رنگ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ہندوستان  روسی تیل خریدنا بند کر دے گا اور امریکہ سے توانائی خریدے گا۔ وزیر اعظم مودی نے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ خاموشی حکمت عملی کے تحت تھی، کیونکہ ہندوستان  کسی بڑے توانائی کے نئے بندوبست میں خود کو باندھنا نہیں چاہتا۔ اس ڈیل کا وقت بھی نہایت اہم ہے۔ اس کے بالکل پہلے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان 25 سال سے رکے آزاد تجارتی معاہدے پر اتفاق ہوا۔ اس معاہدے سے دنیا کے سب سے بڑے تجارتی بلاکس میں سے ایک تشکیل پائے گا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کامیابی ہندوستان  یورپی یونین جوش و خروش سے زیادہ ٹرمپ کے ٹیرف دباؤ اور یورپ کے ساتھ ان کے ٹکراؤ  پر مبنی رویے کا نتیجہ تھی۔
یورپ آج ایک الجھن میں ہے۔ ایک طرف امریکہ کی غیر یقینی پالیسیاں اور ٹیرف کی دھمکیاں ہیں، تو دوسری طرف چین کے ساتھ بڑھتے تعلقات سے جڑی سکیورٹی اور انسانی حقوق کی تشویشات ہیں۔ یورپی رہنما چین کے ساتھ تجارت بڑھانے پر گھریلو تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ان پر منافع کے لیے جمہوری اقدار سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ اسی دوران یورپ نے ہندوستان کو ایک تیسرے متبادل کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے، ایسا متبادل جو چین جیسی سیاسی بوجھلتا کے بغیر وسیع منڈی اور پیداواری صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
یہی سوچ کینیڈا میں بھی نظر آ رہی ہے۔ وزیر اعظم مارک کارنی کی قیادت میں کینیڈا اپنی حکمت عملی کو متنوع بنا رہا ہے، تاکہ وہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔ ہندوستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات اس نئی پالیسی کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان اب صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت نہیں، بلکہ ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد شراکت دار بھی ہے، جو یورپ اور کینیڈا کو عالمی عدم استحکام کے دور میں معاشی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top