انٹر نیشنل ڈیسک: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کی طرف سے لگائے گئے ریسیپروکل ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت کا دیا گیا یہ فیصلہ کئی ممالک کے لیے راحت بھرا ہے۔ یہیں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ٹرمپ اس منسوخ کیے گئے ٹیرف کو واپس کریں گے۔ اگر بھارت کی بات کریں تو وائٹ ہاو¿س کے ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کے بعد ملک پر لگنے والا ٹیرف 18 فیصد سے گھٹ کر اب صرف 10 فیصد رہ جائے گا۔
کن ممالک کو ہوگا فائدہ۔
بھارت: ٹیرف 18 فیصد سے گر کر 10 فیصد پر آ گیا۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا: یہاں ٹیرف 15 فیصد سے گھٹ کر 10 فیصد ہو جائے گا۔
ویتنام: سب سے بڑی راحت ویتنام کو ملی ہے، جہاں ٹیرف 20 فیصد سے سیدھا 10 فیصد پر آ گیا ہے۔

در اصل، ٹرمپ نے یہ محصولات انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ IEEPA کے تحت لگائے تھے، جسے عدالت نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اب اس کی جگہ دفعہ 122 کے تحت عام 10 فیصد ٹیرف لاگو رہے گا۔
اربوں ڈالر کا ریفنڈ: کس کو ملے گا پیسہ۔
ٹرمپ انتظامیہ نے سال 2025 میں ان محصولات کے ذریعے تقریباً 200 ارب ڈالر کا ریونیو جمع کیا تھا۔ اب اس رقم کا ایک بڑا حصہ ریفنڈ کے طور پر واپس کرنا ہوگا۔ امریکی چیمبر آف کامرس کے مطابق، ریفنڈ کا فائدہ ان امریکی درآمد کنندگان کو ملے گا جنہوں نے براہ راست کسٹم ڈیوٹی ادا کی تھی۔
چیمبر کے ایگزیکٹو نائب صدر نیل بریڈلی نے کہا کہ یہ فیصلہ ان 2 لاکھ سے زیادہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے زندگی بخش ثابت ہوا ہے، جو پچھلے ایک سال سے سپلائی چین میں رکاوٹ اور بڑھتی لاگت سے پریشان تھے۔ تاہم، جن کمپنیوں نے براہ راست ٹیرف ادا نہیں کیا ہے، وہ اس ریفنڈ کی حقدار نہیں ہوں گی۔

ٹرمپ کے معاشی حساب کتاب پر پھر گیا پانی۔
ڈونالڈ ٹرمپ کا مقصد ان ٹیرف کے ذریعے ایک دہائی میں کھربوں ڈالر جمع کرنا تھا، تاکہ امریکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔ لیکن سپریم کورٹ کی اس مداخلت نے فی الحال ان کے ان منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی تجارتی جنگ Trade War کی صورت حال کچھ حد تک نرم پڑ سکتی ہے۔