انٹرنیشنل ڈیسک: دنیا کے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے مبینہ تعلقات کے باعث بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان دبئی کی ایک بڑی بندرگاہ اور لاجسٹکس کمپنی کے اعلیٰ افسر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب عالمی سرمایہ کاروں نے کمپنی میں سرمایہ کاری روکنے کی وارننگ دے دی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق استعفیٰ دینے والے افسر کو دبئی کے حکمران کا نہایت قریبی اور ان کا رائٹ ہینڈ سمجھا جاتا تھا۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں ان کا نام سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر سوالات اٹھ گئے۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر ایپسٹین کے ساتھ کاروباری مواقع پر بات چیت، نجی ملاقاتوں اور خواتین سے متعلق قابلِ اعتراض گفتگو کا ذکر ہے۔ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان بات چیت میں ایک بار 'سو فیصد روسی خاتون 'کا حوالہ آیا تھا، جس پر سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا میں سخت ردِعمل سامنے آیا۔ اس کے ساتھ ہی ایپسٹین نیٹ ورک سے جڑے مبینہ تشدد کی ویڈیوز اور خواتین کے استحصال کے الزامات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔ جیسے ہی تنازع کی لپیٹ کمپنی تک پہنچی، کئی عالمی سرمایہ کاروں اور کاروباری شراکت داروں نے واضح کر دیا کہ جب تک اعلی سطح پر جوابدہی طے نہیں ہوتی، وہ سرمایہ کاری پر دوبارہ غور کریں گے۔
اس کے بعد کمپنی کے بورڈ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اعلی افسر کا استعفیٰ قبول کر لیا اور نئی قیادت کی تقرری کا اعلان کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت صرف ایک شخص کے استعفے تک محدود نہیں بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین اسکینڈل کی گونج اب عالمی کارپوریٹ اور سیاسی حلقوں میں بھی تیزی سے سنائی دے رہی ہے۔ خلیجی خطے کے معروف کاروباری اداروں پر شفافیت اور جوابدہی کا دبا ؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔