لندن: بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق نئے دستاویزات اور میڈیا رپورٹس نے برطانیہ کی شاہی خاندان اور عالمی طاقت کے نظام میں ہلچل مچا دی ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق، جولائی 2006 میں ایپسٹین پرنسز بیٹریس کی 18 ویں سالگرہ کی پارٹی میں ونڈسر کاسل میں موجود تھا، اس کی گرفتاری سے صرف آٹھ دن قبل۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس وقت ایپسٹین کے ساتھ گھسلن میکسویل اور ہاروی وائن اسٹائن بھی موجود تھے، جبکہ نابالغ کے جنسی استحصال کے کیس میں اس کے خلاف دو ماہ پہلے ہی وارنٹ جاری ہو چکا تھا۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پرنس اینڈریو نے مبینہ طور پر مسز ونڈسرکوڈ نیم استعمال کر کے ایپسٹین سے متعلق خواتین کو بکنھم پیلس میں داخل کروا دیا۔ڈیلی میل کے مطابق، ان انکشافات کے بعد شاہی ادارے کے لیے عوامی حمایت 45 فیصد تک گر گئی ہے، جو اب تک کی سب سے کم سطح ہے۔ کنگ چارلس سوم کو "شدید تشویش" میں بتایا گیا ہے، تاہم شاہی محل کی طرف سے رسمی ردعمل محدود رہا۔
دوسری جانب، سی این این کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ کی وائٹ ہاوس کاونسل رہ چکی کیتھی روملر کے ایپسٹین سے تعلقات پر سوال اٹھے ہیں۔ وہ اس وقت گولڈمین سیکس کی چیف لیگل آفیسر ہیں۔ایک اور تنازع میں ڈیلی میل نے دعویٰ کیا کہ پرنس ولیم کی چیریٹی ارتھ شاٹ پرائز کو سلطان احمد بن سلییم سے ایک ملین پاونڈ سے زیادہ کا عطیہ ملا، جبکہ ان پر ایپسٹین کے ساتھ قابل اعتراض ای میلز اور "ٹارچر ویڈیو" شیئر کرنے کے الزامات ہیں۔ویسے، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی پولیس یہ جانچ رہی ہے کہ کیا پرنس اینڈریو نے 2008 کی سزا کے بعد بھی ایپ اسٹائن کو سرکاری سفر اور تجارتی معلومات سے متعلق حساس معلومات فراہم کیں۔ان تمام دعووں نے یہ بحث تیز کر دی ہے کہ کیا دہائیوں تک بااثر اداروں نے سنگین الزامات کے باوجود آنکھیں بند رکھیں اور اب اس کی قیمت شہرت اور اعتماد کے طور پر ادا کرنی پڑ رہی ہے۔