انٹر نیشنل ڈیسک : مغربی ایشیا میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ نے ہندوستان کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہے۔ ایسے میں اگر جنگ طویل ہو جاتی ہے تو اس سے ملک میں تیل اور گیس کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے جنگ کے چار ہفتے تک جاری رہنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے، نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
ہندوستان کے پاس کتنا ذخیرہ ہے
صنعتی اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی موجودہ تیاری اس طرح ہے۔
خام تیل: تقریبا 17سے اٹھارہ دن کی طلب کے برابر ذخیرہ۔
پیٹرول اور ڈیزل: 20سے 21 دن کا مناسب ذخیرہ۔
ایل پی جی گیس: سب سے نازک صورتحال یہاں ہے، جہاں صرف دس سے بارہ دن کا متبادل ذخیرہ باقی ہے۔
چونکہ ہندوستان اپنی نوے فیصد مائع قدرتی گیس خلیجی ممالک سے خریدتا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ براہ راست گھریلو گیس کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔
بحران سے نمٹنے کا ہنگامی منصوبہ
پیٹرولیم وزارت اور تیل کے شعبے کی بڑی کمپنیاں رسد برقرار رکھنے کے لیے متحرک ہو گئی ہیں۔ حکومت درج ذیل ٹھوس اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
برآمدات پر پابندی: ہندوستان اپنی صفائی کی صلاحیت کے بل پر بڑی مقدار میں ڈیزل اور پیٹرول برآمد کرتا ہے۔ بحران بڑھنے پر ان برآمدات کو روک کر گھریلو منڈی میں تیل کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔

روس سے تعلقات میں اضافہ: خلیجی ممالک سے ہونے والی رسد میں رکاوٹ کو دیکھتے ہوئے ہندوستان روس سے خام تیل کی درآمد بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ سمندر میں موجود روسی تیل بردار جہازوں کو ترجیحی بنیاد پر ہندوستان کی طرف موڑنے کی تیاری ہے۔
ایل پی جی کی محدود تقسیم اور مقامی پیداوار: ہندوستان اپنی ضرورت کا 85 سے 90 فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔ رسد متاثر ہونے پر گیس کی محدود تقسیم کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی مقامی ریفائنریوں کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بازار پر اثر اور عالمی صورتحال
پیر کے روز تنا ؤ بڑھتے ہی خام تیل کی قیمتوں میں دس فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ اسی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور قطر کے تیل اور گیس کے کارخانوں پر حملوں نے عالمی رسد کے نظام کو مزید سخت کر دیا ہے۔ پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک میں ایندھن کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ ماہرین کا ایک طبقہ یہ بھی مانتا ہے کہ ایران اس جنگ کو زیادہ طویل عرصے تک نہیں کھینچ پائے گا، جس سے جلد ہی حالات معمول پر آنے کی امید ہے۔