انٹرنیشنل ڈیسک: اسلام آباد میں امن مذاکرات کے باوجود ایران کی سرکاری ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سخت موقف اپناتے ہوئے صاف کہا ہے کہ بات چیت کے باوجود ان کی "انگلیاں ٹرگر پر رہیں گی۔ان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ تہران کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہے اور اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران بات چیت پر یقین رکھتا ہے، لیکن امریکہ پر بھروسہ نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی وفد نہایت احتیاط اور حکمت عملی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے۔
اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے شہباز شریف سے ملاقات کی، جو اس پورے سفارتی عمل کا اہم حصہ ہے۔ شہر کا سیرینا ہوٹل اس وقت سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں سخت سیکیورٹی کے درمیان دونوں ممالک کے نمائندے موجود ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ امریکی ٹیم میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی واضح کہا ہے کہ معاہدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکہ امریکہ فرسٹ پالیسی اپناتا ہے یا اسرائیل فرسٹ۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی طیارے کو پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوتے وقت AWACS اور لڑاکا طیاروں کی حفاظت فراہم کی گئی، جو اس مشن کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔
- بات چیت جاری، لیکن اعتماد کی کمی برقرار۔
- ایران سخت موقف کے ساتھ مذاکرات میں شامل۔
- وقت کم، دباو زیادہ۔
اسلام آباد کی اس گفتگو میں ایک طرف مذاکرات ہیں، تو دوسری طرف جنگ کی تیاری کا اشارہ بھی۔ "ٹرگر پر انگلی والا بیان واضح کرتا ہے کہ امن کی راہ ابھی بھی نہایت نازک اور غیر یقینی ہے۔