واشنگٹن:جیفری ایپسٹین سے متعلق حال ہی میں منظر عام پر آنے والی فائلوں کو لے کر سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی ایپسٹین فائلوں میں دنیا کے کئی بڑے سیاسی رہنماو¿ں، فنکاروں، سائنس دانوں اور صنعت کاروں کے نام سامنے آئے ہیں۔ تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان فائلوں میں ناموں کا آنا کسی بھی شخص کے خلاف جرم ثابت ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ 2019 میں جیفری ایپسٹین کی موت کے بعد سے لے کر 2024 سے 26 کے درمیان امریکی عدالتوں کی جانب سے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات کو عوامی کیا گیا۔
ان فائلوں میں فلائٹ لاگز، ای میلز، کانٹیکٹ بکس، گواہیاں اور اندرونی میمو شامل ہیں۔ ان دستاویزات میں کئی بااثر نام سامنے آئے، لیکن نام آنا اور جرم ثابت ہونا، یہ فرق قانونی طور پر بے حد اہم ہے۔ یہ فہرست سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارف احمد حسن احمد حسن زا کی جانب سے یکم فروری کو شیئر کی گئی۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ نئی ایپسٹین فائلوں میں کچھ نمایاں نام سامنے آئے ہیں، جس کے بعد یہ پوسٹ تیزی سے وائرل ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی فہرستوں کو احتیاط سے پڑھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ کئی نام صرف رابطے، ملاقات، سفر یا حوالہ کے طور پر دستاویزات میں درج ہو سکتے ہیں۔
سیاسی اور بااثر شخصیات کے نام۔
وائرل فہرست میں امریکہ اور دنیا کے کئی نمایاں سیاسی نام شامل بتائے گئے ہیں۔ ان میں ڈونالڈ ٹرمپ، جو بائیڈن، بل کلنٹن، ہلیری کلنٹن، ال گور، رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر، پرنس اینڈریو، اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اہود باراک، بل رچرڈسن، ٹام پریٹزکر، ڈگ بینڈ، سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر لوئیس فری اور معروف مفکر نوم چومسکی جیسے نام شامل بتائے گئے ہیں۔
فلم، فن اور گلیمر کی دنیا کے نام۔
فہرست میں تفریحی دنیا سے تعلق رکھنے والے کئی مشہور نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں مائیکل جیکسن، لیونارڈو ڈی کیپریو، کیون اسپیسy، جارج لوکاس، میڈونا، کیٹ بلانشیٹ، کیمرون ڈیاز، ناومی کیمبل، ہائڈی کلم، کرس ٹکر، بروس ولس اور بیانکا جیگر کے نام شامل ہیں۔
سائنس دان، ماہرین تعلیم اور کاروباری شخصیات۔
پوسٹ میں سائنس اور بزنس دنیا کی شخصیات کے نام بھی گنوائے گئے ہیں۔ ان میں اسٹیفن ہاکنگ، بل گیٹس، رچرڈ برینسن، مارون منسکی، گلین ڈوبن، ایوا اینڈرسن ڈوبن، لیس ویکسنر، ایبیگیل ویکسنر، فریڈرک وکائی، الیگزینڈرا وکائی، پیٹر لسٹرمن، ریکارڈو لیگوریٹا اور ایلن مسک جیسے نام شامل بتائے گئے ہیں۔
نام آنے کا مطلب کیا ہے۔
قانونی ماہرین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلوں میں ناموں کا آنا یہ ضروری نہیں بناتا کہ متعلقہ شخص نے کوئی جرم کیا ہو۔ کئی معاملات میں یہ نام رابطہ فہرست، فلائٹ لاگ، ای میل، سماجی میل جول یا فنڈنگ سے متعلق حوالوں میں درج ہو سکتے ہیں۔ اب تک ان ناموں میں سے کئی شخصیات پہلے ہی ایپسٹین سے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے سے انکار کر چکی ہیں۔
زیادہ زیر بحث آنے والے نام۔
پرنس اینڈریو برطانیہ۔
ان سیلڈ دستاویزات میں سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والا نام۔
ورجینیا گیوفری نے دعویٰ کیا کہ وہ نابالغی میں پرنس اینڈریو سے ملی تھیں۔
پرنس اینڈریو نے تمام الزامات سے انکار کیا اور معاملہ عدالت سے باہر سمجھوتے کے ذریعے نمٹا۔
ان پر کوئی فوجداری سزا عائد نہیں ہوئی، لیکن شاہی ذمہ داریاں چھین لی گئیں۔
بل کلنٹن سابق امریکی صدر۔
ایپسٹین کے فلائٹ لاگز میں نام درج۔
کلنٹن نے کہا کہ وہ کبھی ایپسٹین کے نجی جزیرے پر نہیں گئے اور کسی غیر قانونی سرگرمی کی معلومات نہیں تھیں۔
دستاویزات میں کوئی فوجداری الزام نہیں، صرف رابطے اور سفر کا ذکر ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ امریکی صدر۔
پرانے سماجی پروگراموں اور تصاویر میں ایپسٹین کے ساتھ نظر آئے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایپسٹین سے تعلقات بہت پہلے ختم کر لیے تھے۔
ان سیلڈ فائلوں میں کسی متاثرہ کا الزام یا فوجداری ربط درج نہیں۔
پیٹر مینڈلسن برطانیہ۔
سابق برطانوی وزیر اور سفارت کار۔
دستاویزات میں نام اور رابطے سامنے آئے۔
ان پر جنسی جرم کا الزام نہیں، لیکن ایپسٹین سے قریبی تعلقات پر سیاسی تنازع پیدا ہوا۔
ایلن ڈرشووٹس معروف وکیل۔
ورجینیا گیوفری نے الزامات لگائے جنہیں ڈرشووٹس نے مکمل طور پر مسترد کیا۔
بعد میں دونوں کے درمیان ہتک عزت کا مقدمہ سمجھوتے پر ختم ہوا۔
کوئی فوجداری جرم ثابت نہیں ہوا۔
لیس ویکسنر ارب پتی کاروباری۔
ایپسٹین کی دولت اور مالی طاقت کے پیچھے نمایاں نام۔
دستاویزات بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایپسٹین کو غیر معمولی مالی اختیارات دیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود ایپسٹین کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
سائنس دان، صنعت کار اور غیر ملکی رہنما۔
فائلوں میں کئی اور نام بھی سامنے آئے۔
ماہرین تعلیم، ٹیک اور فنانس سے وابستہ افراد، غیر ملکی سفارت کار۔
زیادہ تر معاملات میں صرف رابطے یا سماجی میل جول کا ذکر ہے، جرم کا نہیں۔
سب سے بڑا سوال۔
متاثرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے نام تو سامنے آئے، پیٹرن دکھے، لیکن تفتیش میکسویل سے آگے نہیں بڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایپسٹین کے متاثرین نے اپنی آزاد فہرست بنانے کا اعلان کیا۔ ان سیلڈ فائلیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایپسٹین اکیلا نہیں تھا۔ لیکن قانون اب بھی یہی کہتا ہے کہ نام ہونا جرم کا ثبوت نہیں ہے۔ پھر بھی سوال برقرار ہے کہ کیا طاقتور لوگوں کی وجہ سے انصاف ادھورا رہ گیا۔