ڈھاکہ:بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک دو دن پہلے ایک ہندو تاجر کے بے رحمانہ قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ ملک کے میمن سنگھ ضلع میں پیش آیا، جس سے انتخابی ماحول میں سکیورٹی کو لے کر سنگین سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ مقتول کی شناخت 62 سالہ سوشین چندر سرکار کے طور پر ہوئی ہے، جو چاول کے تاجر تھے اور جنوبی کانڈا گاو¿ں کے رہائشی تھے۔ ان کی دکان بھائی بھائی انٹرپرائز بوگرا بازار چوراہے پر واقع تھی۔
پولیس کے مطابق یہ قتل 9 فروری کی رات تقریباً 11 بجے ہوا۔ نامعلوم حملہ آوروں نے سوشین چندر سرکار پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا، انہیں شدید زخمی کر کے دکان کے اندر ہی چھوڑ دیا اور پھر شٹر بند کر کے فرار ہو گئے۔ جب دیر رات تک سوشین چندر سرکار گھر واپس نہیں آئے تو ان کے اہل خانہ نے تلاش شروع کی۔ پولیس کے مطابق جب خاندان کے افراد دکان پر پہنچے تو انہوں نے انہیں خون میں لت پت حالت میں مردہ پایا۔
یہ واقعہ اسی میمن سنگھ ضلع میں پیش آیا ہے، جہاں حال ہی میں ایک اور ہندو شخص دیپو چندر داس کو مبینہ طور پر ہجوم نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا اور بعد میں اس کی لاش جلا دی گئی تھی۔ ان واقعات نے علاقے میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ فی الحال پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے، لیکن حملہ آوروں کی شناخت یا گرفتاری کے حوالے سے کوئی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ انتخابات سے ٹھیک پہلے اس طرح کے واقعات کو لے کر اقلیتی برادری کی سکیورٹی پر ایک بار پھر سوال اٹھنے لگے ہیں۔