انٹرنیشنل ڈیسک: اسرائیلی فلم ساز ڈین وولمین نے کہا کہ ان کی نئی فلم ' مرڈرز ٹو کلوز، لو ٹو فار' کا خیال انہیں سن 2012 میں ہندوستان کے دورے کے دوران آیا، جب دہلی میں ایک فزیوتھراپی انٹرن نربھیا کے ساتھ ہونے والے اجتماعی جنسی حملے اور اس کے قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے تھے۔ 'فلوچ '، 'مائی مائیکل' ، ' این اسرائیلی لو اسٹوری 'اور 'ویلی آف اسٹرینتھ' جیسی فلموں کے لیے مشہور وولمین نے ہندوستانی فلم ساز منجو بورا کے ساتھ مل کر اس مرڈر مسٹری کی مشترکہ ہدایت کاری کی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی فلم ہے جس کی مشترکہ پروڈکشن ہندوستانی اور اسرائیلی فلم سازوں نے کی ہے۔
اس فلم کو 24 ویں پونے بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں پیش کیا جائے گا۔ وولمین نے کہا کہ 28 دسمبر 2012 کو وہ اپنی فلم 'گئی اونی'( ویلی آف اسٹرینتھ )کے ساتھ نئی دہلی بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں شریک ہوئے تھے۔ اس سے چند دن پہلے اجتماعی جنسی حملے اور قتل کا ہولناک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے دہلی کی سڑکوں پر زیادہ تر خواتین کی جانب سے نکالے گئے بڑے مظاہرے اور ریلیاں دیکھی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ فلم 'مرڈر ٹو کلوز، لو ٹو فار' کا خیال اسی وقت آیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آسام میں رہنے والی اپنی دوست منجو بورا کو اپنے اس خیال کے بارے میں لکھا اور خوش قسمتی سے وہ ان کے ساتھ فلم کی مشترکہ پروڈکشن اور مشترکہ ہدایت کاری پر رضامند ہو گئیں۔
وولمین نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ ہندوستان میں کی گئی ہے اور اس میں جنسی استحصال، تشدد، بدعنوانی، گروہ کا رویہ، گینگ اور ہجوم کی ذہنیت جیسے موضوعات کو اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسائل اسرائیل میں بھی اتنے ہی عام ہیں جتنے دنیا کے دیگر حصوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکہ، یورپ، افریقہ اور چین میں فلمیں بنائی ہیں اور سب کو ملتی جلتی کہانیوں، مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پونے بین الاقوامی فلم فیسٹیول (پی آئی ایف ایف ) میں مرڈرز ٹو کلوز، لو ٹو فار کو گلوبل سنیما زمرے کے تحت 17 اور 19 جنوری کو دکھایا جائے گا۔ وولمین بیس برس سے زائد عرصے سے پونے بین الاقوامی فلم فیسٹیول سے وابستہ ہیں۔ وہ کئی ہندوستانی فلم میلوں میں جیوری کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔