انٹرنیشنل ڈیسک:چین میں ایک بار پھر وائرس کو لے کر تشویش بڑھ گئی ہے۔ کووڈ۔19 کے بعد اب نارو وائرس نے لوگوں میں خوف پیدا کر دیا ہے۔ جنوبی چین کے گوانگڈونگ صوبے میں واقع فوشان شہر کے ایک سینئر ہائی سکول میں 100 سے زیادہ طلباء اس وائرس کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ صحت کے محکمے کے مطابق کل 103 طلباء میں انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔مقامی حکام نے بتایا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام متاثرہ طلباءکی حالت معمول کے مطابق ہے۔ کسی بھی طالب علم کو سنگین مسئلہ نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ احتیاط کے طور پر سکول کے احاطے کو مکمل طور پر سینٹائز کر دیا گیا ہے اور طلباء کی صحت پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
متاثرہ طلباءمیں معدے سے متعلق مسائل سامنے آئے ہیں۔
انہیں قے اور اسہال جیسی مشکلات ہوئیں، جو نارو وائرس کی عام علامات سمجھی جاتی ہیں۔ تمام طلباءو ضروری علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور وہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔ ساتھ ہی یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات بھی جاری ہیں کہ وائرس کس وجہ سے پھیلا۔گوانگڈونگ صوبے کے ڈپارٹمنٹ برائے مرض کنٹرول کے مطابق، اس علاقے میں ہر سال اکتوبر سے مارچ کے درمیان نارو وائرس کے کیس زیادہ سامنے آتے ہیں۔ سرد موسم میں یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے اور خاص طور پر سکولوں، ہوسٹل اور ہجوم والی جگہوں پر اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نارو وائرس ایک انتہائی متعدی وائرس ہے، جو معدے کے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ اسے عام بول چال میں اسٹمک فلو بھی کہا جاتا ہے، حالانکہ اس کا فلو سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ اس وائرس سے متاثر ہونے پر اچانک قے، اسہال، پیٹ میں درد اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ یہ وائرس بہت تیزی سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیل سکتا ہے، خاص طور پر آلودہ کھانے، پانی یا متاثرہ سطحوں کے رابطے سے۔دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں لوگ نارو وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، سالانہ تقریباً 68 کروڑ سے زیادہ لوگ اس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔
ان میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 20 کروڑ بچے شامل ہیں۔ یہ وائرس ہر سال تقریباً 2 لاکھ لوگوں کی جان بھی لے لیتا ہے، جن میں تقریباً 50 ہزار بچے ہوتے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور ترقی پذیر ممالک میں دیکھا جاتا ہے، جہاں علاج کی سہولیات محدود ہوتی ہیں۔اقتصادی طور پر بھی یہ وائرس دنیا کو بھاری نقصان پہنچاتا ہے۔ علاج اور کام کا نقصان ملا کر ہر سال تقریباً 60 ارب ڈالر کا اقتصادی اثر پڑتا ہے۔ امریکہ میں تو یہ وائرس کھانے سے پھیلنے والی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ مانا جاتا ہے۔نارو وائرس کا پہلا بڑا کیس سال 1968 میں امریکہ کے اوہائیو ریاست کے نورواک شہر میں سامنے آیا تھا۔ اس وقت ایک سکول میں ایک ساتھ کئی لوگ بیمار پڑ گئے تھے۔ اسی واقعے کے بعد سائنسدانوں نے اس وائرس پر تحقیق شروع کی تھی۔ چونکہ یہ بیماری سب سے پہلے نورواک شہر میں پہچانی گئی تھی، اس لیے ابتدا میں اسے نورواک وائرس کہا گیا، جو بعد میں نارو وائرس کے نام سے جانا جانے لگا۔
موسم کے حساب سے بھی اس وائرس کا اثر مختلف جگہوں پر مختلف وقت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ دنیا کے شمالی حصوں میں یہ بیماری نومبر سے اپریل کے درمیان زیادہ پھیلتی ہے، جبکہ جنوبی حصوں میں اپریل سے ستمبر کے درمیان اس کے کیس بڑھتے ہیں۔ جو ممالک خطِ استوا کے قریب واقع ہیں، وہاں یہ وائرس کسی خاص موسم تک محدود نہیں رہتا اور سال بھر پھیل سکتا ہے۔فی الحال چین میں صحت کے حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور لوگوں سے صفائی اور احتیاط برتنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔