National News

تجارتی معاہدے کے تحت ہم ضرورت کا 52 فیصد تیل نہیں خرید سکیں گے: کانگریس

تجارتی معاہدے کے تحت ہم ضرورت کا 52 فیصد تیل نہیں خرید سکیں گے: کانگریس

نئی دہلی:کانگریس نے کہا ہے کہ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے کے تحت جو شرط رکھی گئی ہے کہ ہندوستان روس سے خام تیل نہیں خریدے گا، اس کے بعد ہندوستان اپنی ضرورت کا 52 فیصد خام تیل اب نہیں خرید سکے گا جس سے ملک کو بڑا معاشی نقصان ہوگا کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا ممبر رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے 6 فروری کو ایک حکم میں کہا ہے کہ ہندوستان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ روس سے خام تیل نہیں خریدے گا اور اگر خریدتا ہے تو امریکہ اس پر نظر رکھے گا۔ اگر نگرانی میں پایا گیا کہ ہندوستان نے بلاواسطہ یا بالواسطہ روس سے تیل خریدا ہے تو ہندوستان پر تمام ٹیرف پنالٹی لاگو کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 14 فروری کو امریکی وزیر خارجہ نے بھی اسی بات کو دہرایا ہے کہ ہندوستان نے روس سے تیل نہ خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس شرط کے مطابق ہندوستان اب امریکہ کے کہنے پر روس سے بھی خام تیل نہیں خرید سکے گا۔ اس سے پہلے امریکہ کے کہنے پر ہندوستان نے ایران سے خام تیل کی خریداری بند کر دی تھی۔
مسٹر سرجے والا نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ روس اور ایران دونوں ممالک سے ہندوستانی روپے میں تیل خریدتا تھا جس سے ہمارا پیسہ بچتا تھا۔ ہندوستان خام تیل کا 40 فیصد روس سے اور 11 فیصد ایران سے خریدتا تھا، لیکن ایران سے تیل کی خریداری پر جب امریکہ نے پابندی لگائی تو ہندوستان نے اسے آسانی سے تسلیم کرلیا۔ اب یہ معاہدہ کر لیا گیا ہے کہ ہندوستان روس سے بھی تیل نہیں خرید سکتا، اس طرح ہندوستان اپنی ضرورت کے 52 فیصد تیل کی درآمد نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان مسلسل روس اور ایران سے سستا خام تیل خریدتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ چار سال میں ہندوستان نے 15 لاکھ 24 ہزار کروڑ کا خام تیل خریدا اور اس سے ملک کو ایک لاکھ 81 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے، لیکن اب امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد ہندوستان سستا تیل نہیں خرید سکے گا اور اس بچت سے محروم ہو جائے گا۔



Comments


Scroll to Top