بیجنگ: چین میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے نظریاتی اور سیاسی کام کے ضابطے اب ہر شعبے میں سختی سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان ضابطوں کا مقصد پورے معاشرے کو شی جن پنگ کی فکر کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس عمل میں سرکاری کنٹرول والا تھری سیلف پیٹریاٹک موومنٹ یعنی تھری سیلف چرچ سب سے آگے نظر آ رہا ہے۔ جنوری میں دیے گئے ایک انٹرویو میں تھری سیلف قیادت نے ان نئے ضابطوں کو ایک سنگِ میل اور رہنما اصول قرار دیا۔
چرچ کی میٹنگز میں اب 'شی جن پنگ تھاٹ' کو پہلا ایجنڈا بنایا جا رہا ہے۔ سیمینری کے طلبہ کو صرف مذہبی تعلیم نہیں بلکہ سیاسی شعور بھی پڑھایا جا رہا ہے تاکہ وہ پارٹی کی سمت کے مطابق سوچیں۔ چرچ کے احاطوں میں قومی پرچم، قومی ترانہ، آئین، سوشلسٹ اقدار اور روایتی چینی فن کو لازمی طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ فوجیان جیسے علاقوں کی مذہبی سیمینریوں میں اب الگ سے نظریاتی اور سیاسی کلاسیں چلائی جا رہی ہیں اور سیاسی نصابی کتابیں تیار کی جا رہی ہیں۔ کئی چرچوں کو حب الوطنی کی تعلیمی مراکز میں بدلا جا رہا ہے، جہاں ریڈ تھیم کے نمائشی کمرے، خطاطی، دستکاری اور کنفیوشس کی کتابوں پر لیکچر ہو رہے ہیں۔
پادریوں کے لیے قانون اور پالیسی کے مطالعے کے مہینے میں حصہ لینا لازمی ہے، جس میں انہیں مذہبی شدت پسندی اور غیر ملکی مداخلت کی پہچان کی تربیت دی جاتی ہے۔ مستقبل میں سیاسی وفاداری کو فنڈنگ سے جوڑنے، عیسائی عقائد کی سوشلسٹ تشریح کرنے اور قومی سلامتی کی تعلیم بڑھانے کے منصوبے بھی سامنے آئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل میں عیسائیت کی روح پس منظر میں جا رہی ہے اور چرچ ایک نظریاتی آلے میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ایمان سے زیادہ اہمیت سیاسی فرمانبرداری کو دی جا رہی ہے۔