National News

چین کی رئیل اسٹیٹ کمپنی کا کالا سچ: ایورگرینڈ کے بانی نے 300 ارب ڈالر کے گھپلے کا اعتراف کیا

چین کی رئیل اسٹیٹ کمپنی کا کالا سچ: ایورگرینڈ کے بانی نے 300 ارب ڈالر کے گھپلے کا اعتراف کیا

بیجنگ: چین کی بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی چائنا ایورگرینڈ گروپ کے بانی ہوئی کا یان (جنہیں شو جیا ین بھی کہا جاتا ہے) نے عدالت میں کئی سنگین الزامات کو تسلیم کر لیا ہے۔ چین کی ایک عدالت کے مطابق ہوئی کا یان نے دھوکہ دہی، رشوت خوری، غیر قانونی طور پر عوام سے رقم جمع کرنے اور فنڈز کے غلط استعمال جیسے الزامات میں خود کو مجرم مان لیا ہے۔ انہیں ستمبر 2023 میں حراست میں لیا گیا تھا اور اب عدالت نے کہا ہے کہ حتمی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔
مقدمے کے دوران ہوئی نے عدالت میں اپنے کیے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ ان کے خلاف غیر قانونی قرض دینے، قوانین کے خلاف حساس معلومات شیئر کرنے اور مالی بے ضابطگیوں جیسے کئی دیگر الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ایورگرینڈ کبھی دنیا کی سب سے زیادہ قرض میں ڈوبی ہوئی رئیل اسٹیٹ کمپنی تھی جس پر 300 ارب ڈالر سے زیادہ کی واجبات تھیں۔ 2024 میں ہانگ کانگ کی عدالت نے کمپنی کو ختم کرنے (لیکویڈیشن) کا حکم دیا تھا اور 2025 میں اس کے شیئرز کو اسٹاک ایکسچینج سے ہٹا دیا گیا تھا۔
یہ کمپنی 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی اور چین کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تیزی سے بڑھی۔ لیکن 2020 میں حکومت کی جانب سے قرض پر سختی کے بعد ایورگرینڈ سمیت کئی کمپنیاں مالی بحران کا شکار ہو گئیں۔ اس بحران کا اثر صرف کمپنی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے چین کی معیشت پر بھی دباو ڈال دیا۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کمی نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا اور عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں بھی تشویش بڑھا دی۔ماہرین کا ماننا ہے کہ ایورگرینڈ کیس چین کے رئیل اسٹیٹ ببل کے پھٹنے کی سب سے بڑی مثال ہے جس نے پورے سیکٹر کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔



Comments


Scroll to Top