National News

بڑا انکشاف: ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز تک لایا چین ، پردے کے پیچھے اہم کردار ادا کیا

بڑا انکشاف: ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز تک لایا چین ، پردے کے پیچھے اہم کردار ادا کیا

انٹرنیشنل ڈیسک: بھارت کے سابق سینئر سفارتکار ودیا بھوشن سونی نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات میں چین کے اہم لیکن پردے کے پیچھے کردار پر بڑا انکشاف کیا ہے۔ان کے مطابق، یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر آیا۔ سونی نے کہا کہ اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا، لیکن مذاکرات کا ہونا ہی ایک بڑی کامیابی ہے۔
ودیا بھوشن سونی کا ماننا ہے کہ اتنے حساس معاملات پر پہلی ہی ملاقات میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں ہوتا اور اس کے لیے کئی ادوار کی بات چیت ضروری ہوتی ہے۔
سونی نے بتایا کہ امریکہ اور ایران دونوں "میکسیمالسٹ" یعنی سخت ابتدائی مطالبات کے ساتھ مذاکرات میں آئے تھے، جنہیں قبول کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن اصل بات چیت میز کے پیچھے، یعنی غیر رسمی ملاقاتوں اور سائیڈ لائن گفتگو میں ہوئی۔
سونی کے مطابق، اس مذاکرات کا سب سے اہم مسئلہ آبنائے ہرمز رہا۔ یہ آبنائے عالمی تیل تجارت اور شپنگ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے ہرمز اس کا سب سے بڑابارگیننگ چپ ہے، کیونکہ اس پر کنٹرول رکھ کر وہ امریکہ پر دباو¿ ڈال سکتا ہے۔ جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے اس آبی گزرگاہ کو کھلوانا ان کی حکمت عملی کی کامیابی کا پیمانہ بن گیا ہے۔
سونی نے یہ بھی بتایا کہ 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس بات چیت نے ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا، کیونکہ تقریباً 47 سے 48 سال بعد اتنی اعلیٰ سطح پر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے۔
اگرچہ اب بھی کچھ اہم مسائل پر تعطل برقرار ہے، لیکن ایران کی جانب سے یہ تسلیم کرنا کہ کئی نکات پر پیش رفت ہوئی ہے، ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
اس دوران حالات کی حساسیت اس وقت مزید واضح ہوئی جب ایک چینی ملکیت والا جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود سمندری سرگرمیاں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں۔
مجموعی طور پر، یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں سفارتکاری، طاقت کا توازن اور تزویراتی مفادات کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔



Comments


Scroll to Top