لندن: برطانیہ میں ایک اہم معاملے میں ہندوستانی نژاد صحت کی کارکن نے ہراسانی کا کیس جیت لیا ہے۔ یہ معاملہ' آنٹی ' کہے جانے کے متعلق تھا، جسے عدالت نے توہین آمیز اور امتیازی قرار دیا۔ یہ معاملہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) سے متعلق ہے، جہاں 61 سالہ صحت کی معاون ایلڈا ایسٹیوز کام کرتی تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ان کے ساتھی چارلس اوپونگ انہیں بار بار آنٹی کہہ کر بلاتے تھے، حالانکہ انہوں نے کئی بار ایسا نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس معاملے کی سماعت واٹ فورڈ ایمپلائمنٹ ٹریبونل (Watford Employment Tribunal ) میں ہوئی۔ جج جارج ایلیٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ رویہ عمر اور جنس کی بنیاد پر ہراسانی کی زمرے میں آتا ہے۔
عدالت نے مانا کہ اگرچہ گھانا کی ثقافت میں آنٹی لفظ احترام کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن کام کی جگہ پر اسے بار بار کہنا اور شکایت کے باوجود جاری رکھنا ایک توہین آمیز ماحول پیدا کرتا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ یہ مذاق کے طور پر کیا گیا غیر مناسب اقدام تھا، لیکن اس کا اثر شکایت کنندہ کے لیے غیر آرام دہ اور توہین آمیز رہا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے این ایچ ایس ٹرسٹ کو حکم دیا کہ وہ ایسٹیوز کو 1,425.15 پاؤنڈ کا معاوضہ دے، کیونکہ ان کے جذبات مجروح ہوئے۔
ایسٹیوز نے یہ بھی بتایا کہ ان کے ساتھی نے ان کے ایک سینئر ساتھی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی غیر مناسب تبصرے کیے، جس سے کام کی جگہ کا ماحول مزید خراب ہوا۔ تاہم، عدالت نے ان کے دیگر الزامات جیسے نسلی امتیاز، انتقامی کارروائی اور تنخواہ میں کمی کو کافی شواہد نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس معاملے میں شکایت کنندہ کی شناخت چھپانے کی درخواست کو اس لیے رد کیا گیا کیونکہ عوامی عدالتی نظام میں شفافیت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔