Latest News

میڈیکل سائنس کا حیران کن معجزہ: مردہ خاتون کے عطیہ کردہ رحم سے پیدا ہوا بچہ

میڈیکل سائنس کا حیران کن معجزہ: مردہ خاتون کے عطیہ کردہ رحم سے پیدا ہوا بچہ

انٹر نیشنل ڈیسک: لندن سے میڈیکل سائنس کی ایک ایسی خوشگوار اور حیران کن خبر سامنے آئی ہے، جس نے ماں بننے کی امید چھوڑ چکی ہزاروں خواتین کے لیے امید کی نئی روشنی جلا دی ہے۔ برطانیہ کی تاریخ میں پہلی بار ڈاکٹروں نے ایک مردہ خاتون کے عطیہ کردہ رحم (Uterus) کے کامیاب ٹرانسپلانٹ کے ذریعے ایک صحت مند بچے کی ولادت کرائی ہے۔ یہ معجزہ 30 سالہ گریس بیل کی زندگی میں خوشیاں لے آیا ہے، جنہیں محض 16 سال کی عمر میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکتیں۔
16 سال کی عمر میں ٹوٹا خواب، اب گود میں ہے 'معجزہ'
گریس بیل ایم آر کے ایچ( MRKH ) سنڈروم نامی ایک نایاب بیماری سے پیدائشی طور پر متاثر تھیں۔ اس حالت میں لڑکیوں کی پیدائش یا تو رحم کے بغیر ہوتی ہے یا ان کا رحم بہت چھوٹا اور غیر ترقی یافتہ ہوتا ہے۔ گریس کے پاس ماں بننے کے لیے صرف سروگیسی یا انتہائی پیچیدہ رحم کے ٹرانسپلانٹ کا ہی راستہ بچا تھا۔

History made in UK medicine.

A baby boy named Hugo is the first child in the country born via a womb transplant from a deceased donor. His mother, Grace Bell, was born with MRKH and told at 16 she'd never carry a child. Truly the "gift of life" in action. ❤️… pic.twitter.com/TvTCIjvpma

— We Amplify! (@Amplifiers01) February 24, 2026


سائنسدانوں کی برسوں کی محنت تب کامیاب ہوئی جب کرسمس سے ٹھیک پہلے گریس نے ایک صحت مند بیٹے کو جنم دیا، جس کا وزن پیدائش کے وقت تقریباً سات پاؤنڈ تھا۔ گریس نے اپنے بیٹے کا نام ہیوگو رکھا، جو اب دس ہفتے کا ہو چکا ہے۔ جذباتی گریس نے اپنے بیٹے کو "واقعی ایک معجزہ" قرار دیا ہے۔
MRKH سنڈروم کیا ہے؟
یہ ایک ایسی حالت ہے جو برطانیہ میں تقریبا پانچ ہزار خواتین کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں جسم کی بیرونی نشوونما معمول کے مطابق ہوتی ہے، لیکن اندرونی طور پر رحم اور کبھی کبھار یو نی (اندام نہانی )  مکمل طور پر نشو ونما نہیں پاتی ۔ چونکہ متاثرہ خاتون کے انڈے (Ovaries) صحیح طریقے سے کام کرتے ہیں، اس لیے IVF اور ٹرانسپلانٹ کے ذریعے حمل کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ اکثر پیریڈ نہ آنے پر 14 سے 16 سال کی عمر میں اس بیماری کا پتہ چلتا ہے۔

Meet Grace, Steve and their baby boy Hugo. 👋🏼

Grace is the second woman in the UK to give birth following a womb transplant - and the first from a deceased donor, thanks to a pioneering research programme. ➡️ https://t.co/3eotvF8LW1

Huge congratulations to everyone involved! pic.twitter.com/QNzaM7CN4N

— Imperial NHS 💙 (@ImperialNHS) February 24, 2026

دس گھنٹے کی سرجری اور IVF کا ساتھ
گریس کے ماں بننے کا سفر کسی دلچسپ فلم سے کم نہیں تھا۔ جون 2024 میں آکسفورڈ کے چرچل ہسپتال میں دس گھنٹے تک جاری ایک طویل سرجری کے دوران ایک مردہ خاتون کا رحم گریس کے جسم میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ یہ مکمل عمل برطانیہ میں جاری ایک خصوصی کلینیکل ٹرائل کا حصہ تھا۔
سرجری کی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے کئی مہینوں تک گریس کی نگرانی کی اور پھر IVF ٹیکنالوجی سے تیار شدہ جنین کو نئے رحم میں رکھا گیا۔ ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ یہ کامیابی نہ صرف تکنیکی طور پر بڑی فتح ہے بلکہ ان ہزاروں خواتین کے لیے ایک نعمت ہے جو پیدائشی جسمانی کمیوں کے سبب ماں بننے کے خوشی سے محروم رہ جاتی ہیں۔
 

 



Comments


Scroll to Top