واشنگٹن: تالیوں کی گڑگڑاہٹ اور جوش و خروش کے درمیان ناسا کے ’آرٹیمس-2‘ مشن کے چار خلا باز تاریخی چاند کے سفر کو مکمل کرنے کے بعد بحرالکاہل میں محفوظ طریقے سے اتر گئے۔ یہ 50 سال سے زیادہ عرصے بعد چاند تک پہلی انسانی پرواز ہے۔ ناسا کے بھارتی نڑاد اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر امیت کشتریہ نے سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب جمعہ کو (مشرقی وقت کے مطابق صبح 8:07 بجے) زمین پر واپسی کے بعد پریس کانفرنس میں کہا، ”چاند تک جانے کا راستہ کھل گیا ہے، لیکن آگے کا کام پیچھے کیے گئے کام سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔“ اس مشن میں شامل کمانڈر ریڈ وائزمین، پائلٹ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن نے دسمبر 1972 میں ہونے والے اپولو 17 مشن کے بعد پہلی بار چاند کا سفر کیا۔
فلائٹ ڈائریکٹر رک ہینفلنگ نے کہا کہ آرٹیمس-2 کے خلا باز ”خوش اور صحت مند ہیں اور ہیوسٹن واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔“ آرٹیمس-2 پہلا انسان بردار مشن تھا جس میں ناسا کے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ اور اورین کریو ماڈیول کا استعمال کیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ ایجنسی کا سازوسامان خلا بازوں کو زمین کے مدار سے باہر بھیج کر محفوظ واپس لا سکتا ہے۔ امیت کشتریہ نے کہا، ”کل فلائٹ ڈائریکٹر جیف ریڈیگن نے بتایا تھا کہ چاند تک ڈھائی لاکھ میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہدف حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس ایک ڈگری سے بھی کم کا زاویہ تھا اور ٹیم نے اسے درستگی کے ساتھ حاصل کیا۔ یہ قسمت نہیں بلکہ ایک ہزار لوگوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔
آرٹیمس-2 نے کل 7,00,237 میل کا فاصلہ طے کیا اور زیادہ سے زیادہ رفتار 24,664 میل فی گھنٹہ رہی۔ اب ناسا کا ہدف چاند پر انسان کو اتارنا اور وہاں ایک بستی قائم کرنا ہے، جو مستقبل میں مریخ اور اس سے آگے کے مشنز کے لیے ’لانچ پیڈ‘ بنے گی۔ یہ چاروں خلا بازوں کے لیے ایک شاندار سفر رہا، جس میں چاند کے اس حصے کو بھی دیکھا گیا جسے پہلے کبھی انسان نے نہیں دیکھا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مکمل سورج گرہن کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔ بحرالکاہل میں اترنے کے بعد جیسے ہی اورین کیپسول کھلا تو ٹیم نے سکون کا سانس لی۔ ہینفلنگ نے کہا کہ جیسے ہی کیپسول کھلا، ان کی ٹیم نے بھی سکون کا سانس لی۔
انہوں نے کہا، ہم نے کنٹرول روم کی ٹیم سے بات کی اور خاندانوں کی طرف ہاتھ ہلا کر ان کا خیرمقدم کیا۔ یہ ایک شاندار دن تھا۔ ہینفلنگ نے بتایا کہ زمین کے ماحول میں دوبارہ داخلے کے دوران ٹیم کو تھوڑی تشویش تھی، لیکن اپنے تربیتی عمل پر پورا بھروسہ تھا۔ ناسا نے کہا کہ آرٹیمس-3 مشن جلد آنے والا ہے اور آرٹیمس-2 سے حاصل ہونے والے تجربات کو آگے استعمال کیا جائے گا۔ امیت کشتریہ اس وقت ناسا میں سینئر مشیر اور چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ چاند سے مریخ پروگرام میں ڈپٹی اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔