National News

جاپانی وزیرِ اعظم نے چین کو دکھائیں آنکھیں، کہا - اگر تائیوان کی جنگ میں امریکہ پر حملہ ہوا تو دیں گے سخت جواب

جاپانی وزیرِ اعظم نے چین کو دکھائیں آنکھیں، کہا - اگر تائیوان کی جنگ میں امریکہ پر حملہ ہوا تو دیں گے سخت جواب

ٹوکیو: جاپان کی وزیرِ اعظم سانے تاکائچی نے تائیوان کے حوالے سے نہایت سخت اور واضح مو¿قف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر تائیوان میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے اور وہاں امریکی فوج پر حملہ کیا جاتا ہے تو جاپان خاموش تماشائی نہیں بنے گا بلکہ مداخلت کرے گا۔ ٹوکیو میں ایک ٹی وی پروگرام کے دوران تاکائچی نے کہا کہ ایسی صورتِ حال میں اگر جاپان نے کچھ نہ کیا تو امریکہ کے ساتھ اس کا سلامتی اتحاد کمزور پڑ جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تائیوان کا معاملہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ جاپان کی سلامتی اور اس کے بین الاقوامی تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔
نکّی ایشیا کے مطابق تاکائچی نے یہ بھی کہا کہ ہنگامی صورتِ حال میں تائیوان میں پھنسے جاپانی اور امریکی شہریوں کو محفوظ نکالنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر مشترکہ آپریشن چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، اگر امریکی فوج پر حملہ ہوتا ہے اور ہم دوری بناتے ہیں تو پھر ہمارے اتحاد کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ فوجی حملے جیسی ایمرجنسی میں جاپان حالات کا جائزہ لے گا اور موجودہ قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی حفاظت حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
تاکائچی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب چین مسلسل تائیوان پر اپنا کنٹرول جتانے کے اشارے دے رہا ہے۔ اس سے تائیوان پر ممکنہ چینی فوجی کارروائی کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں بھی تاکائچی نے جاپانی پارلیمان میں کہا تھا کہ تائیوان کے خلاف چین کی ناکہ بندی یا فوجی کارروائی جاپان کے وجود کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔ اس بیان پر چین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناو¿ بڑھ گیا تھا۔ چین کے دباو کے بعد تاکائچی نے دسمبر میں کہا تھا کہ تائیوان پر جاپان کا موقف 1972 سے تبدیل نہیں ہوا ہے، لیکن اب ان کے تازہ بیان سے واضح ہے کہ ٹوکیو تائیوان کے مسئلے پر پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس سے ایک بار پھر چین جاپان تعلقات میں تلخی بڑھنے کے اشارے مل رہے ہیں۔



Comments


Scroll to Top