انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناو پر چین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں جاری تناواب خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور اگر یہ طویل ہو گیا تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا۔ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے صاف کہا کہ طویل تناو کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور تمام فریقین کو فوراً لڑائی روک کر بات چیت شروع کرنی چاہیے۔ چین کے مطابق یہ بحران صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی فراہمی تجارت شپنگ اور مالیاتی بازار متاثر ہو سکتے ہیں۔ یعنی اس کا اثر پوری عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
چین نے یہ بھی کہا کہ فوجی کارروائی سے کوئی حل نہیں نکلتا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ صرف تنا? اور نفرت بڑھاتی ہے، اس لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔ بیجنگ نے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ پاز بٹن دبائیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے روکیں۔ ساتھ ہی چین نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اس بحران میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ مجموعی طور پر چین کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا بحران اب عالمی تشویش بن چکا ہے اور دنیا کے بڑے ممالک اسے روکنے کے لیے سرگرم ہو رہے ہیں۔