ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں جمعرات کو 13ویں پارلیمانی خونی انتخابات کے لیے ووٹنگ ختم ہو گئی اور کئی علاقوں میں ووٹ گنتی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ ا الیکشن اگست 2024 میں عوامی لیگ حکومت کے زوال کے بعد بننے والی عبوری حکومت کی جگہ نئی حکومت منتخب کرنے کے لیے کروایا گیا۔ ووٹنگ کے دوران ملک کے کئی حصوں سے تشدد کے واقعات سامنے آئے۔ یہ انتخاب 84 نکاتی پیچیدہ اصلاحی پیکیج پر ریفرنڈم کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ ملک کی 300 میں سے 299 پارلیمانی نشستوں پر صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ووٹنگ ہوئی۔ ایک حلقے میں امیدوار کی موت کے سبب انتخاب منسوخ کر دیا گیا۔ انتخابی کمیشن کے سینئر سیکریٹری اختر احمد کے مطابق، دوپہر 2 بجے تک تقریباً 48 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ پورے ملک میں 42,779 ووٹنگ مراکز پر تقریباً 12.7 کروڑ ووٹر رجسٹرڈ تھے۔
عوامی لیگ پر پابندی کے سبب یہ انتخاب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور اس کے سابقہ حلیف جماعت اسلامی کی قیادت والے 11 جماعتوں کے اتحاد کے درمیان براہ راست مقابلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ مشیر محمد یونس نے پچھلے سال عوامی لیگ کو تحلیل کر کے انتخاب لڑنے سے روک دیا تھا۔ BNP کے سربراہ طارق رحمان نے ڈھاکہ کے گلشن ماڈل اسکول اینڈ کالج میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ اگر انتخابات آزاد، منصفانہ اور پرامن رہے تو ان کی پارٹی نتائج قبول کرے گی۔ جبکہ جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمن نے بھی منصفانہ انتخابات کی صورت میں نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
انتخابات کے دوران کئی جگہ تشدد کے واقعات پیش آئے۔ گوپال گنج میں ایک ووٹنگ سینٹر پر مبینہ ہینڈ بم حملے میں 13 سالہ لڑکی سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔ منشی گنج میں ایک اور ووٹنگ سینٹر کے باہر کئی ہینڈ بم دھماکے ہوئے، جس کی وجہ سے تقریباً 15 منٹ کے لیے ووٹنگ روکنی پڑی۔ کھلنا میں ایک ووٹنگ سینٹر کے باہر BNP اور جماعت کے کارکنوں کی جھڑپ میں BNP کے ایک رہنما کی موت ہو گئی۔ حفاظت کے لیے تقریباً 10 لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جو ملک کی انتخابی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ پہلی بار ڈرون اور باڈی وارن کیمروں کا استعمال کیا گیا۔
دارالحکومت ڈھاکہ میں بکتر بند گاڑیاں اور ریپڈ ایکشن ٹیم بھی تعینات رہیں۔ انتخابات کی نگرانی کے لیے 81 مقامی تنظیموں کے 55,000 سے زیادہ نگران اور 394 بین الاقوامی مبصر موجود تھے۔ کئی جگہ بیلٹ اسٹفنگ اور ووٹ خریدنے کے الزامات بھی لگے، جن پر پولیس نے کچھ گرفتاریاں کی ہیں۔ انتخابات کے نتائج 13 فروری کو اعلان کیے جانے کی توقع ہے۔ ملک اور بین الاقوامی برادری کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ آیا یہ انتخاب بنگلہ دیش کو سیاسی استحکام کی طرف لے جا پائے گا۔