National News

امریکی تجارتی معاہدے سے کسانوں کو نقصان…راہل گاندھی کا مرکز پر شدید حملہ، کہا- ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی پر بنایادباو

امریکی تجارتی معاہدے سے کسانوں کو نقصان…راہل گاندھی کا مرکز پر شدید حملہ، کہا- ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی پر بنایادباو

نیشنل ڈیسک: لوک سبھا میں لیڈرِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دباو¿ ڈال کر وزیر اعظم نریندر مودی سے ایسا معاہدہ کروایا، جس سے ملک کے کسانوں کے مفاد کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگرس کسانوں کو کسی بھی قیمت پر قربانی کا بکرہ نہیں بننے دے گی۔
کسان کانفرنس میں حکومت کو گھیرا
کیرالہ کے کَنور ضلع کے پیراور میں منعقد کسان کانفرنس میں راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت یہ بھول رہی ہے کہ کسان ہی ملک کی اصل بنیاد ہیں۔ انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جیسے مضبوط بنیاد کے بغیر عمارت قائم نہیں رہتی، ویسے ہی کسانوں کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت تقاریر میں تو کسانوں کا ذکر کرتی ہے، لیکن زراعت کو مضبوط کرنے پر ٹھوس کام نہیں ہو رہا۔
زراعت کی جڑیں کمزور کرنے والا معاہدہ
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ امریکہ کے ساتھ کیا گیا معاہدہ بھارتی زراعت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کسان چھوٹے کھیتوں اور محدود ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرتے ہیں، جبکہ امریکی کسان بڑے کھیتوں اور جدید مشینوں سے لیس ہیں۔ ایسے میں امریکی زرعی مصنوعات کے لیے بھارتی مارکیٹ کھولنا، مقامی کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
چار مہینے تک کیوں رکی رہی ڈیل؟
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ پہلے کسی بھی وزیر اعظم نے امریکی کسانوں کو بھارت میں سویابین، پھل اور سبزیاں بیچنے کی کھلی اجازت نہیں دی تھی، کیونکہ اس سے ہری اور سفید انقلاب سے بنی زراعتی ساخت کمزور ہو جاتی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ گزشتہ چار مہینوں سے رکا ہوا تھا۔
کیرالہ کے لیے الگ وژن
اپنے خطاب کے آخر میں راہل گاندھی نے بتایا کہ کیرالہ کے لیے ایک خصوصی منشور تیار کیا جا رہا ہے، جس میں عام لوگوں اور کسانوں کی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بننے والی حکومت کو یاد رکھنا ہوگا کہ اس کی اصل طاقت کسان اور مزدور ہیں۔



Comments


Scroll to Top