National News

مجھے لگتا ہے کہ جنرل نروَنے سچ بول رہے ہیں: راہل

مجھے لگتا ہے کہ جنرل نروَنے سچ بول رہے ہیں: راہل

نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی کتاب کی اشاعت کے حوالے سے جو کنفیوڑن پیدا ہوا ہے اس میں سچ وہی لگتا ہے جو جنرل نرونے کہہ رہے ہیں منگل کو پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ سابق آرمی چیف کا کہنا ہے کہ کتاب شائع ہو چکی ہے اور اسے آن لائن خریدا جا سکتا ہے، جب کہ کتاب کے ناشر پینگوئن اس کی اشاعت سے انکار کرتا ہے۔ اس تذبذب کی حالت میں انہیں لگتا ہے کہ سابق آرمی چیف سچ بول رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا، "جنرل نرونے کا ایک ٹویٹ ہے جس میں انہوں نے لکھاہے، 'میری کتاب کے لنک پر کلک کریں۔' میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو سابق آرمی چیف نرونے جھوٹ بول رہے ہیں یا پینگوئن پبلشنگ کمپنی۔ مجھے نہیں لگتا کہ سابق ا?رمی چیف جھوٹ بولیں گے۔ پینگوئن پبلشنگ کمپنی کہتی ہے کہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے، جبکہ یہ کتاب ایمیزون پر دستیاب ہے۔
انہوں نے کہا، "جنرل نرونے کہتے ہیں، 'براہ کرم 2023 میں میری کتاب خریدیں۔' میں پینگوئن پبلشنگ کمپنی کے مقابلے نرونے جی پر زیادہ یقین کرتا ہوں۔ کیا آپ جنرل نرونے کے مقابلے پینگوئن پبلشنگ کمپنی پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ نرونے جی نے اپنی کتاب میں کچھ ایسے بیان دیئے ہیں جو ہندوستانی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے تکلیف دہ ہے۔ ظاہر ہے، اپ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ پینگوئن پبلشنگ کمپنی یا سابق آرمی چیف میں کون سچ بول رہا ہے۔
امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے متعلق سوال کے بارے میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جو تجارتی معاہدہ ہوا ہے، اس کی وجہ کو سمجھنے کے لیے آپ اس پوسٹر کو دیکھ سکتے ہیں جس میں لکھا ہے کہ مسٹر مودی نے ٹرمپ کے سامنے سرینڈر کردیا ہے۔
                
 



Comments


Scroll to Top