واشنگٹن: امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے نہایت سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ امریکہ نے گزشتہ سال آپریشن مڈنائٹ ہیمر نامی فوجی کارروائی کے تحت ایران کی سرزمین پر حملہ کر کے اس کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس کارروائی کے بعد ایران کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرے، لیکن وہ اب بھی خطرناک جوہری عزائم کا پیچھا کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب تک عوامی طور پر یہ اعلان نہیں کر سکا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ میں سفارت کاری کے ذریعے حل چاہتا ہوں، لیکن ایک بات طے ہے کہ میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گردی کے سرپرست کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا۔ انہوں نے طاقت کے ذریعے امن کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اس سال ایک کھرب ڈالر دفاعی بجٹ پر خرچ کر رہا ہے تاکہ دشمنوں کو واضح پیغام دیا جا سکے۔
ٹرمپ کے مشرق وسطی کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر چکا ہے، جو سویلین ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران ایک ہفتے کے اندر صنعتی سطح کے بم کے مواد کی تیاری کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعوی کیا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور مستقبل میں امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک تجویز پر کام جاری ہے جو دونوں فریقوں کے مفادات اور خدشات میں توازن پیدا کرے گی۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ بات چیت کو حوصلہ افزا قرار دیا، لیکن کہا کہ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اگلا مذاکراتی دور 26 فروری کو جنیوا میں ہوگا۔ دونوں فریق تیزی سے کسی معاہدے کے مسودے پر کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان ایران کے ساتھ تاریخی توانائی اور رابطہ تعلقات رکھتا ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کی دفاعی شراکت داری بھی مضبوط ہے، اس لیے بھارت دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔