انٹرنیشنل ڈیسک: بھارت کی برکس 2026 چیئرشپ کے باضابطہ آغاز کے درمیان چین نے گروپ کے اندر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
بھارت میں چین کے سفیر شو فے ہونگ نے کہا کہ بیجنگ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر “گریٹر برکس” کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے تیار ہے۔سفیر شو فے ہونگ نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے برکس انڈیا 2026 کی ویب سائٹ، لوگو اور تھیم کے اجرا پر کیے گئے پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ چین ایک مساوی، منظم کثیر قطبی دنیا اور عالمی سطح پر فائدہ مند، جامع عالمی معیشت کی تعمیر میں حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔
اس سے پہلے وزیر خارجہ جے شنکر نے برکس 2026 کے لوگو لانچ پروگرام میں کہا کہ موجودہ وقت میں دنیا کئی پیچیدہ چیلنجز سے گزر رہی ہے، ایسے میں ایک ازسرنو متحرک، جامع اور مو¿ثر کثیر جہتی نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ، ڈبلیو ٹی او، آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے عالمی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آج کی حقیقتوں کے مطابق زیادہ نمائندہ اور جامع بننا چاہیے۔جے شنکر نے برکس کے قائم کردہ نیو ڈیولپمنٹ بینک کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بینک بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔بھارت اسے ایک قابل اعتماد، ذمہ دار اور مالی طور پر پائیدار ادارہ بنانے کے لیے مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عوام سے عوام کے درمیان رابطے برکس تعاون کا ایک اہم ستون رہیں گے، خاص طور پر بھارت کی چیئرشپ کے دوران۔اس میں نوجوانوں، ثقافت، تعلیم، کھیل، سیاحت اور تعلیمی تبادلے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔جے شنکر نے کہا کہ بھارت برکس کو مکالمے اور ترقی کا ایک تعمیری پلیٹ فارم سمجھتا ہے، جو وسیع تر کثیر جہتی نظام کی تکمیل کرتا ہے۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت کی چیئرشپ جامع، عملی، عوام مرکز اور نتائج پر مبنی ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ برکس گروپ کی شروعات 2001 میں برک کے طور پر ہوئی تھی، جس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے۔2011میں جنوبی افریقہ کے شامل ہونے سے یہ برکس بن گیا۔
2024 اور 2025 میں ہونے والی توسیع کے بعد اب یہ گروپ عالمی سیاست اور معیشت میں مزید مو¿ثر ہو گیا ہے۔