انٹرنیشنل ڈیسک:دنیا میں کسی ملک کی اہمیت صرف اس کی اقتصادی طاقت یا عسکری قوت سے طے نہیں ہوتی، اب ذمہ داری بھی ایک نیا پیمانہ بن رہی ہے۔ اسی سوچ کو بنیاد بنا کر ورلڈ انٹیلیکچول فاو¿نڈیشن (WIF) نے Responsible Nations Index 2026 جاری کیا ہے، جو ممالک کو دیکھنے کا نظریہ ہی بدل دیتا ہے۔
اس انڈیکس میں یہ نہیں پوچھا گیا کہ کون سا ملک کتنا طاقتور ہے، بلکہ یہ پرکھا گیا کہ کون سا ملک اپنے شہریوں، ماحول اور عالمی برادری کے تئیں کتنا حساس اور ذمہ دار ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا جنگ، اقتصادی عدم استحکام اور ماحولیاتی بحران سے لڑ رہی ہے، یہ رپورٹ ان ممالک کو سامنے لاتی ہے جو توازن، اخلاقیات اور طویل مدتی سوچ کو ترجیح دیتے ہیں۔
Responsible Nations Index کیا ہے؟
Responsible Nations Index ایک عالمی تشخیصی نظام ہے، جس میں 154 ممالک کے مظاہر کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی رینکنگ سے ہٹ کر چار وسیع پیمانوں پر ممالک کو پرکھتا ہے۔
- حکمرانی کے نظام میں شفافیت اور اخلاقیات۔
- شہریوں کی سماجی تحفظ اور معیارِ زندگی۔
- ماحولیاتی تحفظ کے ٹھوس اقدامات۔
- بین الاقوامی سطح پر ذمہ دار رویہ۔
اس انڈیکس میں GDP، ہتھیاروں کی تعداد یا عالمی دبدبے کو نہیں بلکہ ذمہ دار قیادت کو ترجیح دی گئی ہے۔
2026 میں سب سے ذمہ دار ملک کون؟
رپورٹ کے مطابق، ایشیا سے سنگاپور نے دنیا کے سب سے ذمہ دار ملک کے طور پر پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ اس کے بعد یورپ کے کئی ممالک کا دبدبہ دیکھا گیا ہے۔ ٹاپ-10 ممالک کی فہرست اس طرح ہے: سنگاپور، سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک، سائپرس، سویڈن، چیک ری پبلک، بیلجیم، آسٹریا، آئرلینڈ اور جارجیا۔
بھارت کی پوزیشن کیا رہی؟
بھارت نے اس رینکنگ میں قابل ذکر مظاہر کرتے ہوئے 154 ممالک میں 16واں مقام حاصل کیا ہے۔ بھارت کا اسکور 0.5515 رہا، جو صحت کی سہولیات، سماجی شمولیت، ماحولیاتی اقدامات اور عوامی مفاد پر مبنی پالیسیوں میں ہوئی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بھارت اس فہرست میں امریکہ اور چین جیسے بڑے اور بااثر ممالک سے آگے رہا۔ جبکہ پاکستان کو 90واں اور روس کو 96واں مقام ملا ہے۔
یہ انڈیکس کیا پیغام دیتا ہے؟
Responsible Nations Index 2026 کا سب سے بڑا پیغام صاف ہے، ممالک کی اصل شناخت ان کی طاقت نہیں بلکہ ان کی ذمہ داری طے کرتی ہے۔ جو قومیں اپنے لوگوں کی بھلائی، فطرت کی حفاظت اور عالمی امن کو ترجیح دیتی ہیں، وہی آنے والے وقت میں پائیدار ترقی کا ماڈل بن سکتی ہیں۔