لاہور:لاہور کے مال روڈ میں واقع ایچیسن کالج کمپلیکس میں واقع قدیم گوردوارہ صاحب میں تقریباً 80 سال بعد تاریخی اور جذباتی سکھ شبد کیرتن اور ارداس کا اہتمام کیا گیا۔ یہ پروگرام نہ صرف مذہبی لحاظ سے اہم رہا، بلکہ تقسیم سے قبل کی مشترکہ وراثت کی یاد کو بھی تازہ کر گیا۔
اس موقع پر پاکستان کے اقلیتوں کے وزیر اور پاکستان سکھ گوردوارہ منیجمنٹ کمیٹی کے صدر سردار رمیش سنگھ اروڑہ سمیت مقامی سکھ سنگت، دانشور شخصیات اور کالج انتظامیہ موجود تھے۔ یہ معلومات دیتے ہوئے ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بتالیہ نے بتایا کہ کالج انتظامیہ کے تعاون سے یہ خصوصی مذہبی پروگرام منعقد کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی راگی جتھے کے اراکین ہروندر سنگھ، اکشیدیب سنگھ اور دلیپ سنگھ کی طرف سے گربانی کے مقدس شبدوں کا روحانیت کے ساتھ کیرتن کیا گیا جس سے حاضر عقئدت مند وں کو روحانی تجربے اور احساس سے بھر دیا ۔
قابل ذکر ہے کہ 1947 کی تقسیم کے بعد سکھ طلبہ کی کمی کی وجہ سے گوردوارہ صاحب بند ہو گیا تھا، تاہم اس کی دیکھ بھال کالج انتظامیہ کی طرف سے مسلسل کی جاتی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شبد کیرتن کالج کی 140 ویں سالگرہ کے موقع پر کروایا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ ایچیسن کالج کی بنیاد 3 نومبر 1886 کو ان وندے پنجاب کے شاہی اور ممتاز خاندانوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے رکھی گئی تھی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق کالج میں واقع گوردوارہ صاحب کا نقشہ اس وقت کے میو اسکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) کے مشہور سکھ معمار سردار رام سنگھ نے تیار کیا تھا۔
اس گوردوارہ صاحب کی بنیاد 1910 میں پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے رکھی تھی، جو 1904 سے 1908 تک اس کالج کے طالب علم بھی رہے تھے۔ اگلے دو سالوں میں گوردوارہ عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی اور اسے ایک فعال مذہبی مقام کے طور پر وقف کیا گیا جہاں سکھ طلبہ روزانہ شام کے وقت شبد کیرتن اور ارداس میں حصہ لیتے تھے۔
موجودہ دور میں ایچیسن کالج کے تقریباً 15 سکھ سابق طلبہ بھارت میں رہ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے کالے اور سفید سنگ مرمر کی فرش اور قلعے جیسی اندرونی تعمیر والی اس گوردوارہ صاحب سے جڑی اپنی یادیں شیئر کیں۔ گوردوارہ صاحب کے علاوہ کالج کے احاطے میں تقسیم سے قبل ایک مسجد اور ایک ہندو مندر بھی آج تک موجود ہیں، جو اس دور کی مشترکہ مذہبی وراثت کی علامت ہیں۔