انٹرنیشنل ڈیسک: کائنات کے سب سے بڑے معلوم ستاروں میں سے ایکڈبلیو اوایچ جی64 میں سال 2014 کے بعد بڑا بدلاوریکارڈ کیا گیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق یہ ستارہ اب اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے اور مستقبل میں عظیم دھماکے یعنی سپرنووا کا امکان ہے۔ یہ مطالعہ National Observatory of Athens کے سائنس دان گونزالو میونیوز سانچیز کی قیادت میں کیا گیا اور ممتاز جریدے Nature Astronomy میں شائع ہوا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ ستارہ اپنی روایتی سرخ عظیم الجثہ حالت سے نکل کر نایاب پیلی عظیم الجثہ حالت میں پہنچ چکا ہے۔ عام طور پر یہ تبدیلی ستارے کی زندگی کے آخری مرحلے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس مرحلے کے بعد ستارہ اکثر عظیم دھماکے کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔
یہ ستارہ کہاں واقع ہے۔
ڈبلیو اوایچ جی64 کی دریافت 1970 کی دہائی میں Large Magellanic Cloud میں ہوئی تھی، جو ہماری کہکشاں کے قریب واقع ایک بونی کہکشاں ہے۔ یہ ستارہ نہایت روشن اور غیر معمولی طور پر بہت بڑا ہے۔ اس کا حجم سورج کے نصف قطر سے تقریباً 1500 گنا زیادہ اندازہ کیا گیا ہے۔ موازنہ کریں تو ہمارا سورج تقریباً 4.6 ارب سال پرانا ہے، جبکہ WOH G64 کی عمر 50 لاکھ سال سے بھی کم مانی جاتی ہے یعنی کائناتی پیمانے پر یہ ابھی جوان ہے۔
حیران کن تصویر ملی۔
2024 میں انتہائی طاقتور دوربین انٹرفیرومیٹر کی مدد سے اس کی تفصیلی تصویر لی گئی۔ اس میں ستارے کے گرد گرد و غبار کا گھنا غلاف دکھائی دیا، جس سے اشارہ ملا کہ یہ تیزی سے اپنی قمیت کھو رہا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق 2014 میں اس کی سطح کا بڑا حصہ باہر نکل گیا تھا۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ کسی ساتھی ستارے کے ساتھ باہمی تعامل کے سبب ہو سکتا ہے۔ طیفی تجزیے سے ساتھی ستارے کی موجودگی کے اشارے بھی ملے ہیں۔
سپرونڈ حالت کا امکان۔
ایک اور امکان یہ ہے کہ یہ ستارہ عظیم دھماکے سے پہلے کی تیز ہواوں یعنی سپرونڈ حالت میں داخل ہو چکا ہے، جس میں اندرونی ارتعاش کے باعث بیرونی پرتیں تیز رفتار سے خلا میں پھینکی جاتی ہیں۔ اس عمل میں ستارے کی بیرونی پرتیں پھیلتی ہیں، جبکہ اس کا مرکز سکڑتا جاتا ہے جو بالآخر سپرنووا دھماکے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
یہ دریافت کیوں اہم ہے۔
عام طور پر ستارے کروڑوں یا اربوں برس تک مستحکم رہتے ہیں۔ کسی بیرونی کہکشاں میں اتنی واضح اور تیز تبدیلی کا ریکارڈ ہونا نہایت نایاب ہے۔ اگر آنے والے برسوں میں ڈبلیو اوایچ جی64 میں عظیم دھماکہ ہوتا ہے تو یہ فلکیاتی لحاظ سے ایک حیرت انگیز منظر ہوگا اور سائنس دانوں کو ستاروں کے زندگی کے چکر اور سپرنووا کے عمل کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کرے گا۔