National News

ناسا کا خلائی راکٹ آرٹیمیس 2 ٹیسٹنگ میں ناکام، لانچ مارچ تک موخر

ناسا کا خلائی راکٹ آرٹیمیس 2 ٹیسٹنگ میں ناکام، لانچ مارچ تک موخر

واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے منگل کو کہا کہ ایک دن پہلے کیے گئے فیصلہ کن ٹیسٹ کے دوران ایندھن کے رساو کے مسئلے کے باعث وہ اپنا نیا خلائی راکٹ مارچ میں ہی لانچ کرے گی۔ ناسا نے ایک بیان میں کہا کہ لانچ میں تاخیر سے اب پرواز کے ٹیسٹ سے پہلے ڈیٹا کا جائزہ لینے اور دوسرا پری لانچ مشق کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ رساو پیر کو کینیڈی اسپیس سینٹر میں ایندھن بھرنے کے طویل عمل کے چند ہی گھنٹوں بعد ہوا۔
ناسا نے کہا کہ اس پرواز کے لیے منتخب چاروں خلا بازوں کو تقریباً دو ہفتے کے لیے قرنطینہ سے نکال دیا جائے گا۔ ناسا نے کہا کہ چاند کے مدار کے لیے اگلی پرواز کے وقت سے تقریباً دو ہفتے پہلے انہیں دوبارہ قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
تاہم، خلائی ایجنسی نے مارچ میں باقاعدہ لانچ کے ہدف کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا۔ اس نے کہا کہ تحقیقات سے حاصل کردہ ڈیٹا کا مکمل جائزہ لینے، ہر مسئلے کا حل نکالنے اور ٹیسٹ پر واپس جانے کی ضرورت ہے۔
پیر کو دوپہر کے وقت لانچ کنٹرولرز نے 322 فٹ (98 میٹر) لمبے راکٹ میں انتہائی سرد ہائیڈروجن اور آکسیجن بھرنا شروع کیا۔ ٹینکوں میں 7 لاکھ گیلن (26 لاکھ لیٹر) سے زیادہ ایندھن بھرا جانا تھا۔ لیکن راکٹ کے نچلے حصے میں ہائیڈروجن کی مقدار بہت زیادہ ہو گئی۔ ہائیڈروجن بھرنے کے عمل کو کم از کم دو بار روکا گیا کیونکہ لانچ ٹیم نے 2022 کی پچھلی اسپیس لانچ سسٹم سے متعلق الٹی گنتی کے دوران تیار شدہ تکنیکوں کا استعمال کر کے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔
اس پرواز کے ٹیسٹ میں ہائیڈروجن رساو کا مسئلہ تھی اور بالآخر یہ بغیر عملے کے پرواز کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ناسا نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ ٹیسٹ کے دوران 'گراونڈ کرو' کے مواصلات میں آڈیو میں بار بار رکاوٹ کا مسئلہ بھی آیا۔ اس مشن کے لیے نامزد چار خلا باز-تین امریکی اور ایک کینیڈین-نے تقریباً 1,000 میل (1,600 کلومیٹر) دور ہیوسٹن میں واقع جانسن اسپیس سینٹر سے اہم پری لانچ مشق کی نگرانی کی۔
ناسا نے پچھلی بار 1960 اور 1970 کی دہائی کے اپالو پروگرام کے دوران خلا بازوں کو چاند پر بھیجا تھا۔ نئے آرٹیمیس پروگرام کا مقصد چاند پر زیادہ دیرپا موجودگی قائم کرنا ہے۔



Comments


Scroll to Top