انٹر نیشنل ڈیسک: امریکہ کے نیویارک میں چل رہے ایک ہائی پروفائل مقدمے کے دوران ایک ایسا بیان سامنے آیا جس نے پورے معاملے کو خبروں کی سرخیوں میں لا دیا۔ پاکستانی نژاد 47 سالہ آصف مرچنٹ نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ اسے ایرانی خفیہ ایجنٹوں نے زبردستی ایک خطرناک سازش میں شامل کیا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ مرچنٹ پر دہشت گردی کی سرگرمیوں اور کانٹریکٹ کلنگ کی سازش کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ وہ خود کو اس معاملے میں بے گناہ بتا رہا ہے۔
تین بڑے امریکی رہنماوں کو بنایا گیا مبینہ ہدف
عدالت میں دیے گئے بیان میں مرچنٹ نے کہا کہ اسے اپریل 2024 میں ایک ایرانی ہینڈلر نے امریکہ بھیجا تھا۔ اس کے مطابق اس شخص نے اسے تین بڑے سیاسی رہنماو کو ممکنہ ہدف بتایا تھا — ڈونالڈ ٹرمپ، جو بائیڈن اور نکی ہیلی۔ اس وقت امریکہ میں صدارتی انتخابات کی تیاری چل رہی تھی اور ٹرمپ اور بائیڈن اہم امیدوار سمجھے جا رہے تھے، جبکہ ہیلی پہلے ہی اپنی امیدوار ی واپس لے چکی تھیں۔
ایرانی ایجنٹس سے پرانے رابطے کا دعویٰ
مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ اس کا رابطہ مبینہ طور پر ایرانی خفیہ نیٹ ورک سے 2022 یا 2023 کے ارد گرد ہوا تھا۔ اس کے مطابق ابتدا میں اس سے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے منی لانڈرنگ جیسے کام کروائے گئے۔ بعد میں اسے مبینہ طور پر امریکی رہنماو¿ں کے خلاف سازش کرنے اور کچھ خفیہ دستاویزات حاصل کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
خاندان کو دھمکا کر بنایا دباو
مرچنٹ نے عدالت میں کہا کہ اس کے خاندان کو دھمکاکر اسے مجبور کیا گیا۔ اس کے مطابق ایران میں رہنے والے رشتہ داروں کو ڈرایا گیا اور ہتھیار دکھا کر دباو بنایا گیا تاکہ وہ سازش میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیوی پاکستان میں اس کے تین بچوں کے ساتھ رہتی ہے، جبکہ خاندان کے کچھ افراد ایران میں بھی ہیں۔
ایف بی آئی کے کیمروں میں قید ہوئی بات چیت
تحقیقی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے مطابق جون 2024 میں کوئینز کے ایک موٹل میں مرچنٹ کی سرگرمیاں چھپے کیمروں میں ریکارڈ ہوئی تھیں۔ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ اس دوران وہ ایک ریپبلکن رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی پر بات کرتے دکھائی دیا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اسے مبینہ طور پر 5,000 ڈالر کی پیشگی رقم بھی دی گئی تھی۔
خود گرفتاری کے خدشے کا ذکر کیا
مرچنٹ نے جیوری کو بتایا کہ اسے پہلے سے اندازہ تھا کہ سازش کامیاب نہیں ہوگی اور آخرکار وہ پکڑا جائے گا۔ اس نے کہا کہ اتنی کم رقم میں کوئی قتل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور اسے لگا کہ پورا معاملہ آخرکار افشا ہو جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکی حکام کو اس منصوبے کے بارے میں بتانے کا سوچ رہا تھا اور امریکہ میں رہنے کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہتا تھا۔
الزام ثابت ہونے پر عمر قید ہو سکتی ہے
فی الحال مرچنٹ نے اپنے اوپر لگے دہشت گردی اور کانٹریکٹ کلنگ کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ لیکن اگر عدالت میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اسے عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ استغاثہ اب اس کے بیان کی جرح کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی تناو موجود ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ بھی پہلے کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی حمایت یافتہ طاقتیں انہیں نشانہ بنا سکتی ہیں۔