اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اب بھی جیل میں بند ہیں۔ اس درمیان رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ سینٹرل ریٹائنل وین اوکلوجن (جسے عام زبان میں “آئی اسٹروک” کہا جاتا ہے) سے متاثر ہیں۔ اگر وقت پر علاج نہ ہوا تو اس سے ان کی بینائی کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عمران خان کی بہن نورین خان نہ صرف اپنے بھائی کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں بلکہ اپنے بیٹے کے لیے بھی، جو سال 2023 سے جیل میں بند ہے۔ نورین خان نے بتایا کہ پچھلے ماہ عمران خان کی جیل کے باہر ہوئے دھرنے کے دوران انہیں بالوں سے کھینچا گیا اور وہ بے ہوش ہو گئی تھیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اسی ہفتے انہوں نے عسکری ادارے کو ایک “آخری وارننگ” دیتے ہوئے کہااگر عمران خان کی آنکھ کو ذرا سا بھی نقصان پہنچا، تو پھر کسی اور کی آنکھ بھی محفوظ نہیں رہے گی۔” انٹرویو میں نورین خان نے اپنے خاندان کے مبینہ سیاسی مظالم کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے سیکڑوں کارکنان کی گرفتاری اور مبینہ تشدد پر بھی بات کی۔ انہوں نے PTI کے رکن سمیع وزیر کی مثال دی، جو جیل سے باہر آنے کے بعد شدید جسمانی چوٹوں، سرجری کے نشانات اور ذہنی صدمے سے نبرد آزما پائے گئے۔
نورین کا الزام ہے کہ ریاستی اداروں نے عمران خان کو خاندان سے الگ کرنے کی کوشش کی اور ان پر ملک چھوڑنے کا دباو بھی ڈالا۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ ریاست عمران خان کے ساتھ مزید سخت اقدامات اٹھا سکتی ہے۔ پروگرام کے اختتام پر انہوں نے بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر مایوسی ظاہر کی اور کہا کہ فی الحال کسی بھی طرح کا سمجھوتہ سامنے نہیں ہے۔